لاہور:خود مسنگ پرسنز والے معاملے میں جوڈیشل کمیشن کا حصہ ہوں ہم سنجیدگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں، لاپتہ افراد پر بہت کام کیا، کمیشن بھی بنایا گیا، مسنگ پرسنز کیلئے ایک ریلیف بیکج متعارف کرایا اور مسنگ پرسن کا معاملہ صرف پاکستان میں نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں ہے قانون کے مطابق سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گھریلو تشدد پر بھی قانون سازی کررہے ہیں اسلام آباد کی حد تک قانون نافذ کردیا ہے، اختلاف کا مطلب لڑائی نہیں بلکہ مہذب معاشرے کا حسن ہے، آئینی ترمیم پر مجھ پر بہت تنقید ہوئی ہے ماضی میں ایسے واقعات ہوئے کہ سپریم کورٹ نے کریز سے باہر نکل کر کھیلا، سپریم کورٹ نے ایک وزیراعظم کو سزائے موت کی توثیق کی ، وزرائے اعظم کو گھر بھیجا، جو مرضی ہوجائے یہ بات طے ہے کہ بائیس کڑور عوام کی پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہے، 17 غیر منتخب ججز کو پارلیمنٹ کی قانون سازی ختم کرنے کا اختیار نہیں 26 ویں ترمیم کے لیے بار ایسوسی ایشنز کو تجاویز کے لیے بھیجا، 26 ویں ترمیم کا مسودہ تمام سیاسی جماعتوں کو بھجوایا تھا