اسلام آباد: اسلام آباد: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی جانب سے ایس ای فروٹس کے مجوزہ آئی پی او سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ذرائع کے مطابق سات بینکوں سے ایس ای فروٹس اور اس کے سابقہ نام شاہین انٹرپرائزز کی برآمدات کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں، جبکہ کمپنی کے اسپانسرز اور ڈائریکٹرز کے بینک اکاؤنٹس میں موصول ہونے والی رقوم اور زرِ مبادلہ کے لین دین کی تفصیلات کے لیے 30 بینکوں سے معلومات مانگی گئی ہیں۔بینکوں کی جانب سے موصول ہونے والے جوابات اور دستاویزات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایس ای سی پی نے 21 اکتوبر کو اس معاملے کی باضابطہ تحقیقات کا حکم جاری کیا تھا۔آئی پی او کے جوائنٹ لیڈ منیجرز ٹاپ لائن سیکیورٹیز اور گروتھ سیکیورٹیز کے جوابات بھی موصول ہو چکے ہیں، جن کا جائزہ جاری ہے۔ کنسلٹنٹ پارکر رسل اے جے ایس نے بھی اپنا جواب جمع کرا دیا ہے، جبکہ سینٹرل ڈیپازٹری کمپنی نے تمام مطلوبہ ڈیٹا فراہم کر دیا ہے۔دوسری جانب آڈیٹر الیاس سعید اینڈ کمپنی کو مطلوبہ ریکارڈ جمع کرانے کے لیے مزید مہلت دے دی گئی ہے۔واضح رہے کہ ایس ای سی پی نے اکتوبر میں ایس ای فروٹس کا آئی پی او روکنے کی ہدایت جاری کی تھی، جس کے بعد کمپنی نے اپنی پیشکش واپس لے لی تھی۔ کمپنی نے اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے 3 کروڑ شیئرز فروخت کرکے 1 ارب 92 کروڑ روپے تک حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔