وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے گجرات یونیورسٹی میں ہونہار سکالر شپ اور لیپ ٹاپ تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کی تقریب کے سپر ہیرو اور چیف گیسٹ میرے بیٹے اور بیٹیاں ہیں بچوں کے چہرے خوشی سے چمک دمک رہے ہیں، پنجاب لیڈ کررہا ہے، پنجاب آگے بڑھا رہا ہے گجرات کے بچوں کا جوش و جذبہ دیکھ کر یقین ہوگیا کہ پاکستان کے ہر بیٹے بیٹی کا مستقبل روشن ہے کتنے بچے کو پنجاب لیپ ٹاپ مل رہے ہیں۔ہونہار سکالر شپ اور لیپ ٹاپ کی تقسیم کی تقریب محض روایتی تقریب نہیں بلکہ ایک جشن ہے جو ایک ماں بچے کی کامیابی پر مناتی ہے میں یہاں اپنے بچوں کی فتح منانے آئی ہوں بچے جس جوش وجذبے کے ساتھ ترانے پڑھ رہے تھے جھنڈے ہلارہے تھے مجھے بہت حوصلہ ملا۔ مجھے یقین ہے کہ بچے سبزہلالی پرچم کو گرنے نہیں دیں گے بچوں کا جوش و جذبہ دیکھ کر ساری تھکاوٹ اترجاتی ہے بہت دور سے بچوں کو ملنے آتی ہوں، لیپ ٹاپ گھروں یا کلاس روم میں بھی پہنچ سکتے ہیں، لیکن ملاقات نہ ہوپاتی پنجاب کے پاس جتنے وسائل ہیں، دل چاہتا سب اپنے پچوں پرنچھواڑ کر دیں بچوں سے کہتی ہوں خواب دیکھو،میں آپ کے پیچھے چٹان کی طرح کھڑی ہوں اب کوئی بچہ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہیں رہے گا100فیصد میرٹ پر سکالر شپ مل رہے ہیں، یونیورسٹی کالجز اور سب ٹیچرز کو بھی مباد پیش کرتی ہوںاللہ تعالیٰ کے سامنے سروخرو ہوں، کسی کو میرٹ کے علاوہ لیپ ٹاپ یا سکالر شپ نہیں ملا
لیپ ٹاپ یا سکالر شپ دیتے ہوئے کسی سے سیاسی وابستگی کا نہیں پوچھا گیااگر آپ نے محنت کی ہے تو آپ انعام کے حقدار ہیں، مجھے اپنے سب بچوں پر فخر ہے مظفر گڑھ سے آنے والے بچے کی تکالیف کا سن کر دل بھر آیا ایک بچی نے بتایا کہ چار بہنوں کے پاس ایک ہی لیپ ٹاپ تھا،باری باری کام کرنا پڑتا تھابچوں کی آو¿ٹ سٹینڈنگ پرفارمنس پر جتنے وہ خوش ہیں اس سے زیادہ میں خوش ہوںگارڈ آف آنر ہیڈ آف سٹیٹ کو دیا جاتا ہے،آج میرے بچوں کو بھی گارڈ آف آنر دیا گیا مجھے خوشی ہے کہ میرے ملک کا مستقبل /جین زی صحیح راستے پر ہیں انہی بچوں نے ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنی ہے2026کو یوتھ کا سال قرار دیا، ملک کا مستقبل اب بچوں کے ہاتھ میں ہے انہی بچوں نے پڑھ لکھ کر ڈاکٹر، انجینئر اور سائنس دان بننا ہے مجھے ذاتی طور پر بچوں سے کچھ نہیں چاہیے،بس وطن سے محبت کا تقاضا کرتی ہوں وطن کی محبت کو محسوس کر کے دیکھیں تو جذبات سے رونگٹے کھڑا ہوجاتے ہیںہمیں اس پاک دھرتی پر اللہ تعالیٰ شکر ادا کرنا چاہے اٹک کے پار کے پی کے ہے، جہاں بچوں کی زبان پر گالی اور ہاتھ ہتھیار تھما دیئے جاتے ہیں کے پی کے کے معصوم بچوں کے ذہنوں میں تشدد بھر دیا جاتا ہے، جو روزگار بند کرکے ٹائر جلاتے پھرتے ہیں پنجاب کے بچوں کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ اور کے پی کے کے بچوں کے ہاتھ میں پٹرول بم اور ہتھیار تھما جاتے ہیںڈنڈا پکڑو، روزگار بند کردو، سکول بند کرودو، نتیجے میں صوبہ بند قید خانہ آباد ہوجاتے پنجاب کے بچوں کے ہاتھ میں ہونہار سکالر شپ، لیپ ٹاپ اور پرواز کارڈ ہے بچوں کے سکول،کالج آنے جانے کے لئے گرین بس بالکل فری ہے
ٹیکنیکل ٹریننگ کے بعد ملک سے باہر جانے کے لئے پرواز کارڈدیا جاتا ہے کاروبار اور کھیتی باڑی کے لئے نوجوان نسل کی معاونت کی جاتی ہے ادھر ہونہار ہے ا±دھر انتشار ہے، کے پی کے میں انتشار ہونا میرے لیے قطعاً خوشی کی بات نہیںمیں پنجابی بعد میں ہوں پاکستانی پہلے ہوںمعصوم لوگ پتھر کے زمانے میں ہیں، انہیں پتہ نہیں ترقی کیا ہے، 13سال سے کے پی کے میں ایک ہی حکومت ہے کسی کو معلوم نہیں ترقی کس چڑیا کا نام ہے، بس کہتے ہیں شعور دے رہے ہیںکے پی کے کے راستے بند کرنے سے پنجاب اور سندھ کو کوئی فرق نہیں پڑتامعلوم ہوا راستے بند ہونے کی وجہ سے کے پی کے میں متعدد لوگوں ایمبولینس میں جان سے چلے گئے ہڑتال کا اعلان چند ارب پتیوں نے کیا، ڈنڈے پکڑا کر دکانیں بند کرنے کو کہاپنجاب کے ہونہار بچوں کی طرف دیکھیں، یہ اکیلے نہیں ان کے پیچھے سی ایم چنان بن کر کھڑی ہے میں سمجھتی ہوں بد تمیزی، شرپسندی کے پی کے کے بچوں کانصیب نہیں ہوسکتی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں کے پی کے کے بچوں ک مقدر نہیں ہوسکتیںکل ہم جیل میں تھے آج اللہ تعالیٰ نے اقتدار دے دیا اقتدار مٹھی میں ریت کی طرح پھسلتا ہے، آج اس کے پاس، کل ا±س کے پاس ہوگا، اقتدار اللہ تعالیٰ کی امانت ہے 72 سالہ والد جیل میں بیمار ہوگئے، ہارٹ اٹیک ہوا، ان کااور ان کی بیماری کا مذاق اڑایا جاتا تھا میں والد کے ساتھ جیل میں تھی، والدہ مرحومہ کو کینسر ہوگیا میری والدہ کی بیماری کا مذاق اڑایا گیا، کہتے تھے وہ بیمار ہیں نہیں میری والدہ لندن کے ہسپتال کے آئی سی یو میں تھیں، کچھ لوگ ڈاکٹر کی یونیفارم پہن کر اندر داخل ہوگئے یہاں انسان کو بیماری ثابت کرنے کے لئے مرنا پڑتا ہے والدہ کا انتقال ہوا تو والد نے سیل میں آکر بتایا کہ آپ کی والدہ للہ کے پاس چلی گئیں ہیں حلف اٹھا کر کہتی ہوں کہ نواز شریف صاحب نے شہباز شریف صاحب اور میں نے کبھی سوچا بھی نہیں کہ جیل میں اس کا کھانا یا ٹی وی بند کریںنواز شریف صاحب نے کہا کہ ایک اے سی ہے تو اسے دو اے سے دے دوسیاست میں نہ ہونے کے باوجود پہلی خاتون کے طور نیب جیل میں بند کیا گیاان کے پاس لیڈیز جیل نہیں تھی، وہ کہتا تھا کہ نواز شریف کی بیماریوں کو دیکھا تو لمبی لسٹ تھی آپ اختلاف کرسکتے بیماریوں کا مذاق اڑانا درست نہیںسیاست کو دشمنی میں بدلنا غلط ہے، میں بچوں سے کہتی ہوں کہ کبھی ایسے نہیں کرنا، سیاست کو دشمنی میں نہیں بدلناوقت گھوم کر واپس آتا ہے، سیاسی دشمن کو بھی بد دعا نہ دینا والدہ کی وفات پر میرے والد کا مغموم چہرے کامذاق اڑاتے رہے جو یہ کرتے ہیں بچوں آپ نے نہیں کرنا، کسی کا برا نہیں چاہناجو بیمار ہے اس کی صحت یابی کے لئے دعا کرتے ہیں مریم نواز نے کہا کہ ذاتیات کو اٹھا کر سیاست سے باہر کردیں، جھوٹ، انتشار اور فتنے کو باہر پھینک دیںکے پی کے کے لوگ بھی اب سوال کرتے ہیں کہ پنجاب کہاں جارہے ہم پتھر کے زمانے میں ہیںمجھے اکثر وہ آیت یاد آتی ہے کہ تمہارارب بھولنے والا نہیں‘پاک دھرتی کے ذرے ذرے کو سنبھال کررکھنا ہے دنگا فساد نہیں کرنااملاک اور گرین بیلٹوں کو آگ نہیں لگانی بلکہ وطن کی حفاظت کرنی ہے۔