اوسلو:ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں پاکستانی نژاد مصنفہ مہمونہ خان کے نئے ناول Der lyset faller (Where the Light Falls) کی رونمائی کی تقریب یکم اکتوبر کو نیشنل لائبریری آف ناروے میں منعقد ہوئی۔ جس میں پاکستانی و غیر ملکی کمیونٹی نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
تقریب میں مصنفہ نے اپنے نئے ناول کی تخلیق کے پسِ پردہ طویل تحقیقی سفر کے بارے میں حاضرین کو آگاہ کیا۔ ناول کی تحقیق کے سلسلے میں تاریخی آرکائیوز اور دستاویزات کا مطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ مؤرخین سے ملاقاتیں اور تاریخی مقامات کے دورے بھی کیے گئے۔ اس تحقیقی سفر میں اوسلو سے لندن اور پھر پاکستان تک کا سفر شامل رہا۔
مہمونہ خان نے اس تحقیقی عمل کے دوران اپنے سفر اور تحقیق کو کیمرے کے ذریعے محفوظ کرنا بھی شروع کیا، جو بعد میں ایک الگ دستاویزی منصوبے کی شکل اختیار کر گیا۔ تقریب میں اسی منصوبے کے تحت تیار کی جانے والی دستاویزی فلم Tracing Light کا ایک حصہ بھی حاضرین کو دکھایا گیا۔
ناول Der lyset faller کی کہانی شمع نامی ایک خاتون کے گرد گھومتی ہے، جو اپنی والدہ کے انتقال کے بعد ان کے سامان اور ورثے کو ترتیب دیتے ہوئے ایک ایسی کہانی کے سراغ تک پہنچتی ہے جسے اس کی والدہ نے کبھی بیان نہیں کیا تھا۔ یہ داستان تقریباً چار سو سال پرانی ہے اور مغلیہ دور کی تاریخ سے جڑی ہوئی ہے۔
شمع کی اپنی زندگی بھی اس دوران ایک مشکل مرحلے سے گزر رہی ہوتی ہے۔ اس کی ازدواجی زندگی ٹوٹنے کے قریب ہے جبکہ لاہور میں واقع خاندان کا گھر بھی خاندان کے ہاتھ سے نکلنے کے خطرے سے دوچار ہے۔ ماضی کے بارے میں حقیقت جاننے کی کوشش اسے ایک ایسی خاتون کی تاریخ تک پہنچاتی ہے جو کبھی مغلیہ سلطنت میں اقتدار کے مرکز کے قریب اہم مقام رکھتی تھیں۔
یہ ناول ماضی اور حال، ذاتی زندگی اور تاریخ کے درمیان تعلق کو موضوع بناتا ہے۔ اس میں ورثے، اپنائیت، محبت اور محرومی جیسے موضوعات کو نمایاں کیا گیا ہے اور اس سوال کو بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ ماضی کی کہانیاں اپنے کرداروں کے دنیا سے چلے جانے کے طویل عرصے بعد بھی آنے والی نسلوں کی زندگیوں کو کس طرح متاثر کرتی رہتی ہیں۔رونمائی کی تقریب میں مہمونہ خان نے ناول کی تحقیق اور تخلیق کے مختلف مراحل حاضرین کے ساتھ شیئر کیے اور Tracing Light کی نمائش کے ذریعے اپنے تحقیقی سفر کی بصری جھلکیاں بھی پیش کیں۔