ارجنٹائن سے بڑی تعداد میں ملنے والے ٹائٹانوسار کے انڈوں کے مطالعے سے سائنس دانوں نے اہم انکشاف کیا ہے کہ یہ دیوہیکل ڈائنوسار خطِ استوا سے دور نسبتاً سرد علاقوں میں بھی انڈے دے سکتے تھے۔تحقیق کے مطابق ٹائٹانوسارز نے اپنے انڈوں کو گرم رکھنے کے لیے ایک خاص حکمتِ عملی اختیار کی۔ لمبی گردن، چھوٹے دماغ اور پودے کھانے والے یہ دیوہیکل ڈائنوسار ساؤروپوڈز کے گروپ کا حصہ تھے اور ممکنہ طور پر جھنڈ کی صورت میں رہتے اور طویل فاصلے تک نقل مکانی کرتے تھے۔ماہرین کے مطابق ان کے فوسلز انٹارکٹیکا اور جنوبی ارجنٹائن سے لے کر منگولیا اور ٹیکساس تک مل چکے ہیں لیکن اب تک یہ واضح نہیں تھا کہ وہ اتنے بلند عرضِ بلد والے علاقوں میں گھونسلے بھی بناتے تھے یا نہیں۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ٹائٹانوسارز اپنے انڈوں پر بیٹھ کر انہیں سینکنے والے پرندوں کی طرح نہیں تھے۔ ان کا دیو ہیکل جسم گھونسلے پر بیٹھنے کی صورت میں انڈوں کو کچل سکتا تھا۔نئی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دیوقامت مخلوقات سخت اور نسبتاً سرد ماحول میں بھی کامیابی سے نسل بڑھانے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔ماہرِ حیاتیات دارلا زیلینٹسکی کے مطابق سب سے زیادہ ممکنہ صورتِ حال یہ ہے کہ ٹائٹانوسارز نے مٹی اور پودوں سے بنے ڈھیر نما گھونسلوں میں انڈے دیے ہوں گے۔ان کے مطابق ان انڈوں کو گرم رکھنے کے لیے زیادہ تر حرارت گلنے سڑنے والے پودوں کے مادے سے پیدا ہوتی تھی، جس سے سرد ماحول میں بھی انڈوں کے لیے مناسب درجہ حرارت برقرار رہتا تھا۔