انسان چاند کے بارے میں سمندروں کی تہہ سے زیادہ جانتا ہے:ناسا کا نیا نقشہ جاری کر دیا

اکثر کہا جاتا ہے کہ انسان چاند کے بارے میں سمندروں کی تہہ سے زیادہ جانتا ہے، اور اب بھی زمین کے بیشتر سمندری حصے انسانی علم سے باہر ہیں تاہم اس صورتحال میں تبدیلی کی امید پیدا ہوگئی ہے، کیونکہ امریکی خلائی ادارے ’ناسا‘ نے سمندری تہہ کا ایک نیا نقشہ جاری کیا ہے، جو خلا سے حاصل کیے گئے ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے جدید نظام زمین کے گرد گردش کرتے ہوئے ہر 21 دن میں تقریباً 90 فیصد سیارے کو اسکین کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف سمندروں بلکہ جھیلوں اور دریاو¿ں کی سطح کی بلندی کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، جس سے پانی کے نظام کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد مل رہی ہے ناسا کے مطابق اس مشن کا مقصد رواں دہائی کے اختتام تک دنیا بھر کی سمندری تہہ کا تفصیلی نقشہ تیار کرنا ہے، تاکہ ان علاقوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں جو اب تک ایک معمہ بنے ہوئے ہیںیہ نقشہ ایک جدید سیٹلائٹ ’سرفیس واٹر اینڈ اوشین ٹوپوگرافی سیٹلائٹ‘ کی مدد سے تیار کیا گیا، جو ناسا اور فرانس کے خلائی ادارے CNES کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ اس سیٹلائیٹ کو دسمبر 2022 میں خلا میں بھیجا گیا تھا ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے صرف سائنسی تحقیق ہی نہیں بلکہ عملی شعبوں میں بھی فائدہ ہوگا۔ سمندری راستوں کی بہتری، نیوی گیشن، زیرِ سمندر کمیونیکیشن کیبلز کی تنصیب، معدنی وسائل کی تلاش اور ممکنہ خطرات کی پیشگی نشاندہی جیسے شعبوں میں یہ معلومات اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔