گجرات:حکومت پاکستان بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ اور متعلقہ اداروں میں گورننس اور ڈیجیٹائزیشن کو بہتر بنانے کے لیے تاریخی اصلاحات متعارف کروا رہی ہے۔یہ بات وفاقی وزیرِ برائے سمندر پار پاکستانیز اور انسانی وسائل کی ترقی، چوہدری سالک حسین نے بدھ کو اسلام آباد میں پاکستان گورننس فورم-2026 کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔گورننس اور شفافیت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکاری سطح پر پالیسیوں کی ایک مقررہ مدت ہونی چاہیے تاکہ کاروباری حضرات کو پالیسیوں کی پائیداری کا یقین حاصل ہو‘ وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے کہا کہ اس سے تسلسل یقینی بنے گا اور سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی ممکن ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی کاروباری شخص سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اگلے پانچ یا دس سال تک وہی پالیسی برقرار رہے گی۔اپنی حالیہ بیرونی حکومتوں کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے، چوہدری سالک حسین نے کہا کہ اسپین حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں اسپین میں مقیم تقریباً 20,000 پاکستانیوں کو قانونی حیثیت فراہم کی جائے گی اور انہیں رہائشی اجازت نامے دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک روزگار میں سہولت فراہم کرنے سے نوجوان عزت دار روزگار حاصل کر سکتے ہیں اور پاکستان کے لیے قیمتی زرمبادلہ بھی فراہم کرتے ہیں وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حالیہ مہینوں میں ترسیلات زر میں تاریخی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ گزشتہ برس وزارت سمندر پار پاکستانیز کی کاوشوں کی بدولت ریکارڈ تعداد میں لوگوں کو بیرون ملک روزگار کی فراہمی کو ممکن بنایا گیا مشرق وسطی ممالک کے اپنے دوروں اور وزراءسے ملاقات کے نتائج کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت یہ سوچ رہی ہے کہ بیرون ملک جانے والے نوجوان پاکستانیوں کو سافٹ سکلز کی تربیت دی جائے تاکہ وہ غیر ملکی قوانین اور پیشہ ورانہ ضروریات سے پوری طرح واقف ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سافٹ سکلز نئی ورک فورس کے لیے لازمی بنائی جائیں گی۔چوہدری سالک حسین نے مزید کہا کہ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوٹ میں 12 سے 13 سال پرانے زیر التواءکیسز کے حل کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں، جس سے ادارے کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچے گا۔ ورکرز ویلفیئر فنڈ میں بھی اصلاحات جاری ہیں تاکہ مزدوروں کو مزید سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے کہا کہ غیر قانونی ایجنٹس کے مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی گئی ہے اور بیورو آف ایمیگریشن میں شکایات کے ازالے کے میکانزم کو مضبوط بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ نظامات، بشمول پروٹیکٹرٹ دفاتر، اس سال مکمل طور پر ڈیجیٹل کیے جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ افراد جو بیرونِ ملک بھیک مانگنے اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، ان کے پاسپورٹ پانچ سے دس سال کے لیے بلاک کیے جائیں گےاور کئی ہزار افراد کے ایسی کاروائی عمل میں لائی جا چکی ہے سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل کے بارے میں بات کرتے ہوئے چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ان کے 90 فیصد کیسز جائیداد سے متعلق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے حل کے لیے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں قائم کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے 90 دن کے اندر کیے جائیں گے، آن لائن سماعت دستیاب ہوگی چوہدری سالک حسین نے بتایا کہ تمام صوبوں میں ان کیلئے الگ عدالتوں کے قیام پر کام جاری ہے جبکہ پنجاب میں یہ عمل آ خری مراحل میں ہے یہاں یہ بات قابل ذکر ہے وزارت سمندر پار پاکستانیز اور انسانی وسائل کی ترقی کے تحت ایک سٹال بھی لگایا گیا ہے جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد وزارت کی گورننس اور مثبت اقدامات کو سراہ رہی ہے