عالمی یوم خواتین کی مناسبت سے گجرات یونیورسٹی میں اہم سیمینار کا انعقاد

جامعہ گجرات کے شعبہ سوشیالوجی کے زیر اہتمام عالمی یوم خواتین کے حوالہ سے ایک سیمینارکا انعقادحافظ حیات کیمپس میں ہوا۔ سیمینار کے مہمان خصوصی ڈین فیکلٹی برائے سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر فیصل محمود مرزا تھے ۔ صدارت چیئر پرسن پروفیسر ڈاکٹر محمد شعیب نے کی جبکہ ڈاکٹر راضیہ اقبال مہمان اعزاز تھیں۔یاد رہے کہ 8مارچ کو دنیا بھر میں عالمی یوم خواتین کے طور پر مناتے ہوئے خواتین کے حقوق کی بازیابی اور خواتین کے عظمت و احترام کے روشن پہلوو¿ں کو اجگر کیا جاتا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر فیصل محمود مرزا نے کہا کہ خواتین تمام دنیا کی آبادی کا نصف قابل قدر حصہ ہیں۔خواتین ایک بہتر سماج و معاشرہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے مثالی ترقی کے تصور کو عملی جامہ پہنانے میں مددگار و معاون ہیں۔ہماری سماجی و معاشی زندگی کے متوازن فروغ میں خواتین کی خدمات ان گنت ہیں۔خواتین مستقبل کی نسلوں کو پروان چڑھاتے ہوئے عالمی ترقی میں بے مثال حصہ لیتی ہیں۔خواتین کو بہترین تعلیمی سہولیات کی فراہمی ہی اصلاً سماجی و معاشرتی بہبود ہے۔اعلیٰ تعلیم پر مصارف زیادہ ترقی کا باعث بنتے ہوئے بہترین سماجی و معاشی نتائج کو سامنے لاتے ہیں۔ ڈاکٹر راضیہ اقبال نے کہا کہ خواتین کی عظمت و احترام کا تصور اور اس پر عمل پیرائی دین اسلام کا بنیادی ستون ہے۔سماجی و معاشرتی ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے خواتین کو حقوق کی فراہمی اور ان کی خدمات کا اعتراف لازم امر ہے۔ایک متوازن معاشرہ کے قیام کے لیے خواتین و مرد د دونوں معاون کردار نبھاہتے ہوئے ذمہ دار بن سکتے ہیں۔پاکستانی معاشرہ میں ماں پورے گھر کا مرکز ہوتی ہے۔مائیں عظیم ذمہ داریاں نبھاہتے ہوئے آئندہ نسلوں کی بہترین تشکیل و تربیت میں حصہ لیتی ہیں۔متوازن معاشرہ کی تشکیل کے لیے خواتین و مرد کی تمام سطح پر برابری انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔بیٹے اور بیٹیوں کی یکساں سطح پر پرورش و تربیت بہت ضروری ہے۔ ڈاکٹر محمد شعیب نے عالمی یوم خواتین کی تھیم Give to Gain – Accelerating Gender Equality پر تاریخی حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دور حاضر میں بھی خواتین کو کڑے چیلنجوں کا سامنا ہے۔مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خواتین کی فعال شمولیت کو مضبوط و توانا بناتے ہوئے صنفی ترقی و مساوات کے اہداف کو بخوبی حاصؒ کیا جا سکتا ہے۔خواتین کی حقوق سے محرومی کا ازالہ کرتے ہوئے بہترین انسانی معاشرہ و سماج کی تشکیل نو ممکن ہے۔اعلیٰ تعلیم کا فروغ سماجی آگاہی کا بہترین لائحہ عمل ہے۔مرد و خواتین کو باہمی حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔آج کی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ بدلتے ہوئے حالات میں خواتین کو با اختیار بنانا ہے اصل معاشرتی و سماجی ترقی ہے۔ڈاکٹر ظہیر عباس نے نقابت کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے مرد و خواتین دونوں صنفوں کی یکساں سوشلائزیشن کو ضروری قرار دیا۔ڈاکٹر ظہیر عباس نے خواتین کے حقوق کا ادراک کرنے بارے مختلف پہلوو¿ں کو بخوبی اجاگر کیا۔