خیبر پختونخوا :خواجہ سراﺅں کیلئے بحالی مراکز سیف ہومز ‘کمیونٹی شیلٹرز قائم کرنیکا فیصلہ

پشاور:صوبہ خیبر پختونخواہ میں پہلی بار خواجہ سرا افراد کی معاشی حالت بہتر بنانے کے لیے خصوصی اینڈومینٹ فنڈ قائم کیا جائیگا‘صوبائی حکومت نے خواجہ سرا افراد کو ہراسانی، تشدد اور امتیازی سلوک سے بچانے اور ان کی سماجی و معاشی بحالی کے لیے جامع نئی پالیسی متعارف کروا دی پالیسی کے تحت خواجہ سرا افراد کو صوبائی و قومی سماجی تحفظ پروگراموں، گرانٹس، ہیلتھ انشورنس اسکیموں، اسکل ڈویلپمنٹ پروگرامز اور ایمرجنسی رسپانس اقدامات میں شامل کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ محکمہ سماجی بہبود کو صوبے میں خواجہ سرا افراد کے لیے فوکل ڈیپارٹمنٹ مقرر کیا گیا ہے، جو تمام سرکاری خدمات اور اسکیموں میں ان کی شمولیت اور انضمام کی نگرانی کرے گا دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ خواجہ سرا افراد کے لیے بحالی مراکز، سیف ہومز اور کمیونٹی شیلٹرز قائم کیے جائیں گے، جبکہ ٹرانسجینڈر پرسنز ویلفیئر رجسٹری اور باقاعدہ ڈیٹا بیس کی تیاری کو لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ مستحق افراد کی انداز میں معاونت ممکن بنائی جا سکے پولیس کے تربیتی کورسز میں خواجہ سرا افراد کے حقوق سے متعلق آگاہی شامل کی جائے گی اور تھانوں میں ٹرانسجینڈر کوآرڈینیشن ڈیسک قائم کیے جائیں گے۔ اسی طرح ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کے تحت ڈرائیوروں اور کنڈیکٹرز کے تصدیق شدہ تربیتی پروگرامز میں بھی حساسیت پیدا کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے مختلف صوبائی محکموں اور کمیشنوں کو مربوط اقدامات کا پابند بنایا گیا ہے۔ خواجہ سرا افراد کو کیس مینجمنٹ سسٹم، حفاظتی پناہ گاہوں اور خاندانی ثالثی کے نظام میں شامل کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔