لاہور: پنجاب میں کرسچن پرسنل لاز میں ترامیم کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی جس کے تحت مسیحی شخصی قوانین میں اصلاحات اور شادیوں کی آن لائن رجسٹریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر تشکیل شدہ اعلیٰ سطحی تکنیکی کمیٹی کا دوسرا اہم اجلاس ہوا۔ صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں مسیحی شادی ترمیمی ایکٹ اسمبلی میں پیش کرنے پر اتفاقِ رائے کیا گیا۔مسیحی شادی ایکٹ میں مجوزہ ترامیم پر اعلیٰ سطحی تکنیکی کمیٹی میں اتفاقِ رائے ہوگیا۔مسیحی شادیوں کی آن لائن رجسٹریشن کا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا گیا، آن لائن رجسٹریشن سے مسیحی شادیوں کے ریکارڈ میں بے ضابطگیوں کا خاتمہ اور شفافیت یقینی بنائی جائے گی۔اجلاس میں مسیحی پرسنل لاز اپنانے اور ذیلی کمیٹی کی مجوزہ ترامیم کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں محکمہ کی جانب سے بریفنگ، ڈاکٹر نول کھوکھر نے بھی پریزنٹیشن پیش کی۔اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کے لیے مذہبی تعلیم اور امتحانی سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اقلیتی مذاہب کے قیدیوں کو مذہبی تعلیم دینے کے لیے تصدیق شدہ اساتذہ کی نامزدگی کی جائے گی۔ مذہبی تعلیم، امتحانی سہولیات اور مصدقہ اساتذہ کی نامزدگی کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں مسیحی برادری کے شخصی قوانین میں اصلاحات کے لیے آج اہم پیش رفت ہوئی ہے، مسیحی برادری کے حقوق کا تحفظ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا عزم ہے، مسیحی پرسنل لاز میں اصلاحات وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اقلیت دوست وژن کا حصہ ہیں۔اجلاس میں ایم پی ایز، سرکاری محکموں کے نمائندگان، قانونی ماہرین اور ماہرینِ تعلیم نے شرکت کی۔