کسی ممکنہ فوجی کارروائی سے خطے میں نئی جنگ چھڑ سکتی ہے:خلیجی عرب ممالک کی وارننگ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن سفارتی حل میں دلچسپی رکھتا ہے اور مذاکرات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے انہوں نے بتایا کہ امریکی نمائندے نئے دور کی بات چیت کے لیے یورپ پہنچ رہے ہیں دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کا تمام افزودہ مواد ملک سے باہر منتقل کیا جانا چاہیے ادھر عالمی جوہری نگران ادارے کے سربراہ سے بھی ایرانی وفد کی ملاقات متوقع ہے دوسری طرف ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی جنیوا روانہ ہو گئے ہیں جہاں امریکا کے ساتھ جوہری پروگرام سے متعلق بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور منعقد ہوگاایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA کے مطابق یہ مذاکرات عمان کی ثالثی میں ہوں گے گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے درمیان پہلا دور عمان میں ہوا تھا، اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے مذاکرات ہوئے تھے تاہم خطے میں کشیدگی اور ایران و اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد بات چیت تعطل کا شکار ہوگئی تھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو اس کے جوہری پروگرام پر پابند کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کی دھمکی دیتے رہے ہیں، جبکہ تہران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کا جواب دیا جائے گا۔