ایران کے آئل ٹینکرز پر حملوں سے دنیا بھر میں پیٹرول کی قلت پیدا ہوگئی

اسرائیل نے تہران میں جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے جب کہ ایران نے عراق کے قریب دو آئل ٹینکروں پر حملہ کردیا جس میں عملے کا ایک رکن بھی ہلاک ہوگیاریسکیو آپریشن کے دوران 39 افراد کو بحفاظت بچالیا گیا جن کی حالت خطرے سے باہر ہے جب کہ ایک شخص ہلاک ہوگیا شبہ ہے کہ دونوں آئل ٹینکز پر حملوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے تاہم ایران نے صرف ایک ٹینکر پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے عراق نے اپنے تمام آئل ٹرمینلز کی سرگرمیاں معطل کر دیں۔ عمان کی بندرگاہ صلالہ میں بھی ڈرون حملوں کے بعد ایندھن کے ذخائر میں آگ لگنے کی اطلاعات ہیں۔ وہاں بھی آپریشن روک دیا گیاتازہ حملوں میں عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عراق کے قریب دو آئل ٹینکرز حملوں کی زد میں آگئے جس میں مجموعی طور پر 40 سے زائد افراد سوار تھے دوسری جانب اسرائیلی فوج نے تہران کے قریب ایک اہم جوہری تنصیب پر حملے کا دعویٰ کیا ہے جس میں آگ بھڑک اُٹھی اور جوہری تنصیبات نزدیک ہونے کے باعث شدید نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔