روزہ جسمانی، ذہنی اور روحانی تربیت کا مکمل ذریعہ: ماہرین صحت کی سائنسی تحقیق

روزہ جسمانی، ذہنی اور روحانی تربیت کا مکمل ذریعہ ہے۔ سائنسی تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ روزہ رکھنے سے جسمانی بیماریوں کے خطرات کم ہوتے ہیں، ذہنی سکون بڑھتا ہے اور خوشحال زندگی ممکن ہوتی ہے روزہ جسم کو زہریلے مادوں سے پاک کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جب کھانے سے پرہیز کیا جاتا ہے تو جسم کو موقع ملتا ہے کہ وہ غیر ضروری اور نقصان دہ مواد خارج کرے، جس سے مجموعی صحت بہتر ہوتی ہےروزہ انسولین کی حساسیت بڑھاتا ہے، جس سے خون میں شوگر کا توازن برقرار رہتا ہے۔ یہ خاص طور پر ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے، کیونکہ روزہ گلوکوز کے م¶ثر استعمال میں مدد دیتا ہے روزہ رکھنے سے خراب کولیسٹرول (ایل ڈی ایل) کم اور اچھے کولیسٹرول (ایچ ڈی ایل) کی سطح بڑھتی ہے، جس سے دل کی بیماریوں کے خطرات کم ہوتے ہیں۔ خون کی گردش بہتر ہوتی ہے اور ہائی بلڈ پریشر کنٹرول میں رہتا ہے روزہ جسم میں سوزش کو کم کرتا ہے، جو جوڑوں کے درد، امراض قلب اور کینسر جیسی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے روزہ کیلوریز کو قدرتی طور پر کنٹرول کرتا ہے، جس سے وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ کھانوں کے درمیان طویل وقف جسم کی چربی گھلانے اور میٹابولزم بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، جس سے موٹاپے اور ذیابیطس کے خطرات کم ہو جاتے ہیں روزہ دماغی صحت پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزے کے دوران دماغ میں بی ڈی این ایف کی سطح بڑھتی ہے، جو یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت کو فروغ دیتی ہے۔ اس کے علاوہ، روزہ ذہنی دبا¶ اور ڈپریشن کم کرتا ہے، جس سے خوشی اور ذہنی سکون میں اضافہ ہوتا ہے روزہ کے دوران آٹو فاجی کا عمل تیز ہو جاتا ہے