ماہرین صحت ہائی کولیسٹرول کو صحت دل کا ایک ایسا خاموش دشمن قرار دیتے ہیں جو برسوں تک بغیر کسی واضح علامت کے جسم میں موجود رہ سکتا ہے اکثر افراد کو اس وقت تک اس مرض کا اندازہ نہیں ہو پاتا جب تک یہ دل، دماغ یا دیگر اہم اعضاءکو متاثر نہ کر دے یہی خاموشی اسے خطرناک بنا دیتی ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی کولیسٹرول خاموش خطرہ جس سے بچاو¿ بروقت احتیاط میں ہے اگرچہ کولیسٹرول جسم کے لیے ناگزیر ہے اور ہارمونز کی تیاری، خلیاتی جھلیوں کی مضبوطی اور وٹامن ڈی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن اس کی زیادتی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے کولیسٹرول دراصل ایک چکنائی نما مادہ ہے جو خون میں گردش کرتا ہے اس کی ایک مقدار جسم خود جگر کے ذریعے تیار کرتا ہے، جبکہ باقی حصہ خوراک سے حاصل ہوتا ہے، خاص طور پر گوشت، مچھلی، انڈوں اور دودھ سے بنی اشیا سے‘کولیسٹرول ابتدا میں درد، کمزوری یا تھکن جیسی علامات پیدا نہیں کرتا۔ تاہم جب شریانیں زیادہ تنگ ہوجائیں تو سینے میں درد، سانس لینے میں دشواری، ٹانگوں میں تکلیف، دل کا دورہ یا فالج جیسے سنگین مسائل سامنے آسکتے ہیں۔ اسی لیے علامات کا انتظار کرنا دانشمندی نہیں سمجھا جاتاڈاکٹرز مشورہ دیتے ہیں کہ مخصوص افراد کو باقاعدگی سے لپڈ پروفائل ٹیسٹ کروانا چاہیے