لاہور:ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ سحری میں درست انتخاب نہ صرف دن بھر توانائی برقرار رکھتا ہے بلکہ پیاس اور کمزوری سے بھی بچاتا ہے، ذیل میں ان غذاو¿ں کا ذکر کیا جا رہا ہے جن سے سحری کے وقت پرہیز بہتر سمجھا جاتا ہے رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی روزہ داروں کی توجہ عبادات کے ساتھ ساتھ صحت مند غذا کی طرف بھی مبذول ہو جاتی ہے پراٹھا، پکوڑے اور دیگر تلی ہوئی غذائیں وقتی طور پر پیٹ بھر دیتی ہیں لیکن یہ معدے پر بوجھ ڈالتی ہیں اور سستی پیدا کرتی ہیں، چکنائی سے بھرپور کھانے ہاضمے کو سست کر دیتے ہیں جس سے روزے کے دوران بے چینی محسوس ہو سکتی ہے زیادہ نمک والی اشیاءجیسے چپس، اچار اور نمکین سنیکس دن کے وقت شدید پیاس کا باعث بن سکتی ہیں، ماہرین کا مشورہ ہے کہ سحری میں نمک کی مقدار کم رکھی جائے تاکہ جسم میں پانی کا توازن برقرار رہے سفید آٹے سے بنی روٹی اور نان جلد ہضم ہو جاتے ہیں اور زیادہ دیر تک پیٹ بھرا محسوس نہیں ہونے دیتے، بہتر ہے کہ ان کی جگہ ثابت اناج (براو¿ن بریڈ یا چپاتی) استعمال کی جائے زیادہ چینی والی اشیا خون میں شوگر کی سطح کو تیزی سے بڑھاتی اور پھر اچانک گرا دیتی ہیں، جس سے کمزوری اور بھوک کا احساس بڑھ سکتا ہے، اس لئے سحری میں مٹھائیوں اور میٹھے مشروبات سے گریز کیا جائے۔