رمضان کے دوران روزہ دارکھلاڑیوں کے لیے غذائیت اور توانائی برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے امریکا کی معروف یونیورسٹی کورنل ہیلتھ سے وابستہ رجسٹرڈ ماہرین غذائیت نے خبردار کیا ہے کہ روزہ کے دوران توانائی، پانی اور پٹھوں کی کمی، قبض اور نیند میں خلل جیسے مسائل جسمانی اور ذہنی کارکردگی پر اثر ڈال سکتے ہیںماہرین نے ایسے عملی اور سادہ غذائی اقدامات تجویز کیے ہیں جو کھلاڑیوں کو رمضان میں توانا اور فعال رہنے میں مدد دے سکتے ہیںماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ کھلاڑی زیادہ توانائی والی غذائیں جیسے کھجور، مونگ پھلی یا بادام کا مکھن، گرینولا، ایووکاڈو اور مختلف بیج اپنی خوراک میں شامل کریں تاکہ جسم کی توانائی کی ضروریات پوری ہو سکیں ماہرین نے پانی کی کمی سے بچنے کے لیے الیکٹرولائٹس والے مشروبات، دودھ، خالص پھلوں کا رس اور شوربے والی سوپ کو مفید قرار دیا گیا ہے قبض سے بچاو¿ کے لیے فائبر اور پانی کا مناسب استعمال ضروری ہے، جبکہ کیوی، بیریز، پپیتا، السی یا چیا کے بیج، دلیہ اور دہی پر مشتمل غذائیں ہاضمے کے لیے فائدہ مند ہیں ماہرین کے مطابق افطار اور سحری کے اوقات میں متوازن غذا لینا نہایت ضروری ہے، خاص طور پر ایسی خوراک جس میں کاربوہائیڈریٹس اور پروٹین مناسب مقدار میں شامل ہوں۔ اگر کھلاڑی زیادہ مقدار میں ٹھوس غذا برداشت نہ کر سکیں تو اسموتھیز، پروٹین ڈرنکس اور پروٹین بارز مفید متبادل ثابت ہو سکتے ہیں۔