جیریمی کاربن جو اپنی جماعت لیبر پارٹی کو چھوڑ چکے ہیں اور اب ایک آزاد رکن پارلیمنٹ ہیں انہوں نے غزہ کے الشفا اسپتال کے ڈائریکٹر سے بات کی ہسپتال کے ڈائریکٹر نے جیریمی کاربن کو بتایا کہ اسرائیلی فوج نے 60 یا 70 میتیں بھیجی تھیں جو بکسوں میں بند تھیں جب ان بکسوں کو کھولا گیا تو ہر ایک میں ایک فلسطینی کی کھوپڑی پڑی تھی جب کہ باقی اعضا غائب تھے اس کے علاوہ اسپتال کو خواتین کی لاشیں بھی موصول ہوئیں جن کے اعضا پہلے ہی نکال لیے گئے تھے برطانوی حکمران جماعت لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کاربن فلسطین میں ڈھائے جانے والے ان مظالم کو سامنے لائے ہیں جو اب تک پوشیدہ رکھے گئے تھے عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جیریمی کاربن نے ایک حالیہ ویڈیو میں انکشاف کیا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں ہلاک ہونے والی خواتین کے جسموں کو کھولا اور اعضا نکالے جیریمی کاربن نے کہا کہ یہی کچھ فلسطینی عوام کے ساتھ ہوتا آ رہا ہے۔ یہ ہمارے دور کاسنگین اور درد ناک المیہ ہے یاد رہے کہ غزہ کا الشفا اسپتال حماس کے کنٹرول میں ہے جہاں سے اسرائیلی فوج نے اکتوبر 2025 میں انخلا کیا تھا تب سے فلسطینیوں کی میتیں دفنانے کے لیے اسرائیل سے ریڈ کراس کے ذریعے الشفا اسپتال بھیجی جاتی ہیں اور ایسا آخری بار 29 جنوری کو ہوا تھا اسرائیلی فوج کی جانب سے حوالے کی گئی ان لاشوں پر بہیمانہ تشدد کے نشانات ہوتے ہیں۔ جسم کٹے پٹے اور اعضا غائب ہوتے ہیںاسرائیل نے اس کے جواب میں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق جیریمی کاربن اور ویئر دا پیس کو ہی تنقید کا نشانہ بنا ڈالااسرائیلی فوج کے انٹرنیشنل ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ندّووشوشانی نے سوال کیا کہ حیران کن بلڈ لیبل پھیلانے سے پہلے حقائق کی جانچ کی گئی؟انھوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی کے فوجی کئی مہینوں سے الشفاءہسپتال کے قریب بھی نہیں گئے ہمارا دور حقائق کی دوبارہ جانچ کرنے کا ہے اور ایسے صحافیوں پر بھروسہ نہیں جو بے بنیاد کہانیاں پھیلاتے ہیںان کے بقول اسرائیلی فوج بین الاقوامی قانون اور داخلی قواعد و ضوابط کے مطابق کام کرتی ہے جو اس طرح کے عمل کی سختی سے ممانعت کرتے ہیں۔