امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پلان اے یعنی ایران پر محدود حملے کی ناکامی کی صورت میں پلان بی پر عمل کرنے کا فیصلہ کرلیانیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے پلان بی کے تحت ایران کی موجودہ حکومت کی تبدیلی کا اٹل فیصلہ کرلیا ہے پلان اے کے تحت صدر ٹرمپ نے معاہدہ کے لیے ایران پر محدود حملوں کے ذریعے دباو¿ ڈالنے کا اعلان کیا تھا تاہم اگر اس سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوئے تو رواں سال کے آخر میں ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے کہیں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے محدود حملوں کے باوجود ایران نے لچک نہ دکھائی تو ایک وسیع فوجی مہم شروع کی جا سکتی ہے جس کا مقصد براہ راست ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا کردار اور ایران کی موجودہ حکومت و اعلیٰ ترین سیاسی نظام کو ختم کرنا ہوگانیویارک کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اندرونی حلقوں سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ ابتدائی حملہ ایران کو اس کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔