غزہ میں اس سال بھی رمضان کا شایان شان استقبال کیا گیاغزہ کے پھٹے پرانے بوسیدہ پناہ گزین کیمپوں میں اسرائیلی بمباری کے شکار اور درد کے مارے فلسطینی خاندان رمضان المبارک کا شایان شان استقبال کر رہے ہیں گزشتہ دو سال سے جاری اسرائیلی جارحیت اور بربریت، جنگ و جدل اور مایوس کن غیر یقینی حالات نے زندگی کو سخت اذیت ناک بنا رکھا ہے اس کے باوجود جیسے ہی ہلال صوم آسمان پر جگمگایا، تاریک ماحول کو خصوصی طور پر تیار کی گئی رمضان لالٹین سے روشن کیا جا رہا ہے۔خیمہ گاہوں کی کچی پکی ایک ایک گلی رنگ و نور سے بھر گئی ہے۔ خیموں سے اللہ اکبر کی صدائیں گونج رہی ہیں صاف نظر آ رہا ہے کہ اسرائیل غزہ کے شہریوں کے گھروں کو تو مسمار کرچکا ہے لیکن ایک ایک شخص کا جذبہ ایمانی پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور اور مضبوط ہوچکا ہے غزہ کے لوگوں کے لیے رمضان المبارک کے یہ دن امید، صبر اور اجتماعات کی اہمیت کا پیغام بھی رکھتے ہیں حالانکہ اب بھی جنگ، بحران اور قربانیوں کا دکھ پوری شدت کے ساتھ تازہ ہے مظلوم فلسطینیوں کی نگاہیں چمک اور چہرے خوش سے کھلکھلا اٹھے غربت، بے گھری اور بھوک کے باوجود وہ آج بہت شاداں ہیںوہ خیمے جو موسم کی سختیاں جھیلنے کی سکت نہیں رکھتے، ان میں بھی رمضان کی آمد پر سادہ لیکن خوشنما سجاوٹ کی جا رہی ہے بچے اپنے ہاتھ سے پینٹنگز بناکر خیموں پر لگا رہے ہیں