عمران خان کے وکیل اپنے ہی خلاف عدالتی فیصلہ لیکر آگئے:جسٹس ہاشم خان

سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے مقدمات سماعت ہوئی، جسٹس ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سائفر، توشہ خانہ اور ہتک عزت کیسز کی سماعت کی توشہ خانہ کیس میں اپیل پر سماعت ہوئی، بانی پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے مو¿قف اپنایا کہ توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ نے سزا معطل کی تھی، توشہ خانہ میں سزا تو معطل ہوئی لیکن فیصلہ نہیں ہوا، کیس فیصلہ نہ ہونے کی بنا پر الیکشن نہیں لڑنے دیا گیا حالانکہ سزا معطل تھی جسٹس ہاشم کاکڑ نے دوران سماعت ریمار کس دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں پر میرے استاد بھی ہیں میرا تھوڑا خیال رکھیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم آپ کا پورا خیال رکھیں گے، جسٹس ہاشم کاکڑ نے سوال کیا کہ کیا آپ کی اپیل پر فیصلہ نہیں ہوا، لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ جی ابھی ہماری اپیل پینڈک ہے جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اگر کسی اپیل میں سزا معطل ہو گئی ہے تو پھر ہوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے، الیکشن میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ اگر کسی معاملے میں سزا معطل ہو جائے تو بندہ جیل میں رہے گا یا پھر آزاد ہوگا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ جی سزا معطل ہونے پر بندہ آزاد ہوگا۔