قرضوں کی واپسی جاری :پاکستان نے70 کروڑ ڈالرزکا چینی قرض واپس کر دیا

پاکستان نے اس ہفتے چین کے کمرشل قرض کی مد میں 70کروڑڈالرز واپس کر دیے ہیں،جس کے بعد اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائرکم ہوکر 15.5 ارب ڈالررہ گئے ہیں ذرائع کے مطابق یہ رقم چائنا ڈیولپمنٹ بینک کو ادا کی گئی،جس نے اس سے قبل اسی قرض کو تین برس کے لیے رول اوورکیا تھا پاکستان اس وقت چین، عرب امارات اور سعودی عرب کی مالی معاونت پر انحصارکر رہاہے، چین کی جانب سے 6.6 ارب ڈالرزکے کمرشل قرضے، 4 ارب ڈالرزکے نقد ڈپازٹس اور 4.5 ارب ڈالرزکی کریڈٹ سوَیپ سہولت فراہم کی گئی ہے،جو کم برآمدات اورمحدودبراہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے تناظر میں معیشت کے لیے اہم سہارا ہیں وزارت خزانہ کی سالانہ قرض پالیسی رپورٹ کے مطابق جون 2025 تک بیرونی سرکاری قرض 6 فیصد اضافے کے ساتھ 91.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا،جس میں کثیرالجہتی اداروں خصوصاً آئی ایم ایف سے قرضوں میں نمایاں اضافہ شامل ہے کمرشل بینکوں سے قرضہ بھی بڑھا،جس کی بڑی وجہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی پالیسی گارنٹی کے تحت حاصل کردہ ایک ارب ڈالرکاقرض بتایاگیاہے عرب امارات نے حال ہی میں 2 ارب ڈالرزکے ڈپازٹ کو ایک ماہ کے لیے رول اوورکیاہے، جس کے بعدطویل المدتی توسیع اورشرح سودمیں کمی پر بات چیت جاری ہے ذرائع کاکہناہے کہ چین،سعودی عرب اور یو اے ای کے تقریباً 12.5 ارب ڈالرزکے سالانہ رول اوورڈپازٹس پر انحصارکی پالیسی پر بھی اندرونی سطح پر غورکیاجارہاہے۔