فتنہ الہندوستان کے کارندے دہشت گرد ہیں وہ لاشوں پر 100،100 گولیاں مارتے ہیں فیصل آباد میں اربوں روپے کا کاروبار بلوچستان کے لوگ کررہے ہیں کسی نے ان کو کچھ کہا، بلوچ ہمارے بھائی ہیں اور ان کا دہشت گردوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ان سے بات نہیں ہو سکتی ان خیالات کا اظہار وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنااللہ نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے سردار اختر مینگل اور ڈاکٹر مالک کے مطالبات پر بات ہوسکتی ہے لیکن دہشت گردوں سے بات نہیں ہوگی ان کا کہنا تھا کہ بسوں سے لوگوں کو اتار کر شناختی کارڈ چیک کرکے ہاتھ باندھ کر گولی مار دی جاتی ہے، ان کی لاشیں پورے پنجاب میں آتی ہیں، کبھی پنجاب سے کسی نے کہا کہ بلوچستان والوں کا بیڑا غرق ہو، کبھی نہیں کہا، وہ کہتے ہیں دہشت گردوں نے ظلم کیا ہے سردار اختر جان مینگل اور ڈاکٹر مالک صاحب ان کا ذمہ لے سکتے ہیں کہ ان کے یہ مطالبات ہیں اگر ریاست ان کو پورا کردے تو وہ ہتھیار رکھ دیں گے، قتل و غارت ختم کریں گے، دہشت گردی کی کارروائیوں سے پیچھے ہٹ جائیں گے، دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنا بند کردیں گے تو آپ کریں بات اس پر کیوں بات نہیں ہوسکتی ہے