واشنگٹن:ماہرین نے وارننگ دی ہے کہ الٹرا پروسیسڈ غذاﺅں پرقوانین کو فوری طو رپر سخت کرنیکی ضرورت ہے ‘ اگر ان غذاو¿ں کے استعمال پر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل میں صحت عامہ کے مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیںاس لیے سگریٹ کی طرح ان پر بھی واضح وارننگ، تشہیری پابندیاں اور سخت قوانین عائد کرنے کی فوری ضرورت ہے امریکا کی تین معروف جامعات کی جانب سے حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق میں الٹرا پروسیسڈ غذاو¿ں پر صحت کے لیے سگریٹ جتنا نقصان دہ ہونے کی وجہ سے سخت ضوابط کے اطلاق مطالبہ کر دیا تحقیق کے مطابق الٹرا پروسیسڈ غذائیں جان بوجھ کر اس طرح تیار کی جاتی ہیں کہ لوگ انہیں بار بار کھائیں اور ان کے عادی ہو جائیں، بالکل اسی طرح جیسے تمباکو کی مصنوعات تیار کی جاتی ہیںمحققین نے حکومتوں اور صحت کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ان غذاو¿ں کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے سخت عوامی صحت کی پالیسیز متعارف کرائی جائیںمطالعے میں بتایا گیا کہ دنیا کے 50 ممالک سے حاصل کردہ شواہد الٹرا پروسیسڈ غذاو¿ں کے زیادہ استعمال کو موٹاپے، دماغی تبدیلیوں اور میٹابولک امراض سے جوڑتے ہیں، جن میں پارکنسنز جیسی سنگین بیماریاں بھی شامل ہیںہارورڈ، ڈیوک یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف مشی گن کے سائنس دانوں نے اس تحقیق کیلئے تجربات کیے ہیں۔