کراچی:امریکاو اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد عالمی توانائی کی ترسیل کے نظام کی کمزوری واضح ہو گئی ہے اطلاعات کے مطابق قطر انرجی کی جانب سے اسپاٹ کارگوکی ترسیل روکنے اور ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز بندکرنے کی دھمکی کے باعث توانائی پر انحصارکرنیوالے ممالک کے لیے سنگین خطرات پیداہوگئے ہیںپاکستان کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے،کیونکہ اس کی تقریباً 2 تہائی ایل این جی سپلائی اسی راستے سے آتی ہے آبنائے ہرمزدنیاکی اہم ترین بحری گزرگاہ ہے جہاں سے روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل گزرتا ہے،جو عالمی سمندری تجارت ہونیوالے تیل کا تقریباً 30 فیصد بنتاہے۔ماہرین کاکہناہے کہ صورتحال میں پاکستان کیلیے مقامی توانائی وسائل کی ترقی قومی ترجیح بن چکی ہے۔ تھرکے کوئلے کے ذخائر کو ملک کاسب سے اہم توانائی اثاثہ قراردیاجارہاہے،جن کے اندازاًذخائر 175 سے 186 ارب ٹن تک بتائے جاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں ہر 10ڈالر اضافے سے پاکستان کے کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں سالانہ ڈیڑھ سے 2ارب ڈالر تک اضافہ ہو سکتاہے۔