ناروے کی آئینی تاریخ کا مرکز ایڈس وول، مظفر الحق سیٹھی اور چوہدری قمر عباس ٹوانہ کیساتھ سیر

اوسلو : آج ہم اپنے نہایت پیارے دلبر جانیوں کے ساتھ ناروے کے تاریخی شہر Eidsvoll ایڈس وول پہنچے جو اوسلو سے تقریباً 60 کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ ہمارے ہمراہ چھوٹے بھائی مظفر الحق سیٹھی آف لالہ موسی اور چوہدری قمر عباس ٹوانہ آف كملہ شريف موجود تھے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں 1814 میں ناروے کے آئین کی بنیاد رکھی گئی، یہاں 112 نمائندے جمع ہوئے اور کئی ہفتوں کی بحث و مشاورت کے بعد 17 مئی 1814 کو آئین پر دستخط کیے گئے، اسی تاریخی دن کی یاد میں آج بھی 17 مئی ناروے کا قومی دن منایا جاتا ہے۔ ایڈس وول Eidsvoll کو اسی لیے ناروے میں جمہوریت اور آئینی تاریخ کی جائے پیدائش کہا جاتا ہے ، ناروے کی پارلیمنٹ کے بائر آؤٹ سائیڈ پلیس کا نام بھی اسی شہر کے نام سے رکھا گیا ہے ایڈس وول پلس کے نام سے جہاں پر لوگ اگر پروٹیسٹ کرنا چاہیں تو وہ کر سکتے ہیں۔آج یہاں کھڑے ہو کر انعام محسوس ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک تاریخی عمارت نہیں، بلکہ ناروے کی قومی شناخت اور جمہوری سفر کی ایک زندہ یادگار ہے، مسجدیں آباد ہوں تو بستیاں بھی آباد ہوتی ہیں رحمانیہ مسجد روھولت ایک خوبصورت دینی سفر2018) میں ہم سب نے مل کر ااسلامی کلچر سینٹر ( ICC) کے سابق امام و خطیب مولانا حافظ محبوب الرحمان کی سرپرستی میں ایڈس وول کے علاقے روھولت (Råholt) میں رحمانیہ مسجد کی بنیاد رکھی گئی۔الحمدللہ آج یہ مسجد اس علاقے میں مسلمانوں کے لیے ایک خوبصورت مرکز اور درسگاہ کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں اہلِ ایمان اطمینان کے ساتھ نماز، عبادات ذکر و اذکار اور دینی تعلیم کا اہتمام کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان تمام احباب کو جزائے خیر عطا فرمائے جنہوں نے اس نیک اور مبارک عمل میں مولانا صاحب اور امت کا ساتھ دیا اپنی محنتُُُُ وقت اور وسائل پیش کیے۔اللہ تعالیٰ رحمانیہ مسجد کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے اسے ہمیشہ آباد رکھے اور اس علاقے میں دین و ایمان کا مضبوط مرکز بنائے۔

خاص خبریں