ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان ٹیم سپرایٹ مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکی، غیر معیاری کارکردگی پر کھلاڑیوں پر ہر جانب سے تنقید کی جا رہی ہے پی سی بی نے کھلاڑیوں پر 50، 50 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا، البتہ اس میں صرف پلیئرز ہی ذمہ دار نہیں ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کا بھی اہم کردار ہے ذرائع نے بتایا کہ ورلڈکپ سے قبل سلیکٹرز نے جو اسکواڈ منتخب کیا اس میں بابر اعظم شامل نہ تھے، البتہ ہیسن نے زور دے کر انہیں ٹیم کا حصہ بنوایاان کا کہنا تھا کہ ایشیا کپ کے دوران مڈل آرڈر کمزور تھا لہذا سینئر بیٹر کی شمولیت ضروری ہے، یہ فیصلہ غلط ثابت ہوا اور بابر بدترین ناکامی کا شکار ہوئے مسلسل ناکامیوں کے باوجود صائم ایوب کو کھلانے کی وجہ سے فخر زمان کو باہر بیٹھنا پڑا، اسی طرح سلمان علی آغا کو تیسری پوزیشن پر بھیجنے کا فیصلہ بھی بیک فائر کر گیاانتہائی باخبر ذرائع کے مطابق کوچ نے نہ صرف سلیکٹر بلکہ کپتان کا کام بھی سنبھالا ہوا تھا، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے انہیں اختیارات دیے لیکن وہ حد سے تجاوز کر گئے ان من مانیوں کا ٹیم کو شکست کی صورت میں نتیجہ بھگتنا پڑا انگلینڈ کیخلاف میچ میں جب عثمان طارق نے اپنی پہلی ہی گیند پر وکٹ لے لی تو حیران کن طور پر ان سے اگلا اوور کروانے کے بجائے صائم ایوب کو گیند تھما دی گئی، اس کی ہدایت بھی کپتان کو کوچ سے ملی تھی۔