ٹیکنالوجی نے اے آئی نے کام کرنے کے طریقوں کو بدل دیا

ایک وقت تھا جب نوکری کو زندگی کا سب سے مضبوط سہارا سمجھا جاتا تھا۔ لوگ ایک ادارے میں شامل ہوتے، برسوں محنت کرتے، ترقی حاصل کرتے اور ریٹائرمنٹ تک خود کو محفوظ محسوس کرتے تھے۔ لیکن اب کام کی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ ٹیکنالوجی، خاص طور پر اے آئی نے کام کرنے کے طریقوں کو بدل دیا ہے اس تبدیلی کے ساتھ ایک نیا احساس بھی جنم لے رہا ہے، جسے کئی ماہرین ”ڈسپوزایبل ورکر سنڈروم“ کا نام دے رہے ہیںیہ صورتحال خاص طور پر ان لوگوں کے لیے زیادہ حساس ہے جو اپنے کیریئر کے درمیانی مرحلے میں ہیں۔ اس مرحلے پر انسان نہ صرف پیشہ ورانہ شناخت بنا چکا ہوتا ہے بلکہ اس کی زندگی کی بہت سی ذمہ داریاں بھی اسی آمدن سے جڑی ہوتی ہیں۔ ایسے میں اگر کام کی نوعیت بدلنے لگے تو انسان صرف پیشہ ورانہ نہیں بلکہ ذہنی دباو¿ کا بھی شکار ہو سکتا ہے اس کے ساتھ ہی کوئی اگر نیا کام مجبوری میں اسٹارٹ کرے تو ذہنی دباو¿ اور آئیڈنٹیٹی کرائیسس یا شناخت کے بحران کا شکار ہوسکتا ہے یہ احساس دراصل نوکری ختم ہونے کے فوری خوف سے مختلف ہے۔ یہاں اصل پریشانی یہ ہے کہ کہیں انسان کی اہمیت کم نہ ہو جائے۔ بہت سے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ وہ جو کام آج کر رہے ہیں، کل وہی کام کوئی سافٹ ویئر یا مشین زیادہ تیزی اور کم خرچ میں کر سکتی ہے۔ یہ سوچ کو متاثر کر رہی ہے کہ آیا مستقبل میں ان کی مہارتوں کی اتنی ہی ضرورت رہے گی یا نہیں؟یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ اب صرف تجربہ ہی کافی نہیں رہا۔ ماضی میں برسوں کا تجربہ ملازمت کے تحفظ کی علامت سمجھا جاتا تھا، لیکن اب حالات مختلف ہیںآج سیکھنے کی رفتار زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ جو لوگ نئی مہارتیں سیکھ رہے ہیں اور خود کو بدلتے وقت کے مطابق ڈھال رہے ہیں، وہ نسبتاً زیادہ پراعتماد محسوس کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ تبدیلی سے دور رہتے ہیں، ان میں بہت زیادہ غیر یقینی پائی جاتی ہے مصنوعی ذہانت نے بلاشبہ کام کو آسان بنایا ہے۔ بہت سے پیچیدہ اور وقت لینے والے کام اب چند لمحوں میں مکمل ہو جاتے ہیں۔ اس سے اداروں کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے اور نئے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک سوال بھی پیدا ہوا ہے کہ اگر مشینیں زیادہ تر کام کرنے لگیں تو انسان کا کردار کیا رہ جائے گا۔