ہم روزمرہ زندگی میں ہیڈفونز کو کام کے دوران، تفریح میں، ورزش کے وقت یا ریلیکسیشن کے لیے استعمال کرتے ہیں، لیکن حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مارکیٹ میں دستیاب تمام ہیڈفونز میں انسانی صحت کے لیے خطرناک کیمیکلز موجود ہیں یہ کیمیکلز کینسر، دماغی نشوونما کے مسائل اور مردانہ خصوصیات کی کمزوری جیسے اثرات پیدا کر سکتے ہیںٹاکس فری کے مطابق 81 ہیڈفونز خرید کر لیبارٹری میں مختلف کیمیکلز کی جانچ کی گئی، جس میں بیس فینول اے (بی پی اے) تقریباً 98 فیصد نمونوں میں پایا گیا، جبکہ اس کا متبادل بیس فینول ایس (بی پی ایس) تین چوتھائی سے زیادہ نمونوں میں پایا گیا یہ کیمیکلز پلاسٹک کو سخت کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور انسانی ہارمونز کے نظام میں مداخلت کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں مردوں میں نسوانیت، لڑکیوں میں قبل از وقت بلوغت اور کینسر جیسے اثرات سامنے آ سکتے ہیں اس کے علاوہ فتھالیٹس جو تولیدی نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں، کلورینٹڈ پیرافنز جو جگر اور گردے خراب کرتے ہیں، اور فلیم ریٹارڈنٹس جیسے برومینیٹڈ اور آرگنو فاسفیٹ بھی تھے، اگرچہ زیادہ تر کیمیکلز کم مقدار میں موجود تھے، لیکن روزانہ کا مجموعی اثر صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے سماجی کارکنوں نے اسے مارکیٹ کی ناکامی قرار دیا اور انڈوکرائن ڈس رپٹر کیمیکلز پر پابندی اور مینوفیکچررز سے شفافیت کا مطالبہ کیا ہے دی گارجین کے مطابق یہ تحقیق سینٹرل یورپی سول سوسائٹی گروپس کے اشتراک سے چلنے والے ٹاکس فری لائف فار آل کی جانب سے کی گئی ہے اس تحقیق میں بوس، پیناسونک، سامسنگ اور سینیہائزر جیسے بڑے برانڈز کے ہیڈفونز سمیت تمام نمونوں میں نقصان دہ مادے ملے