گجرات:صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین کا دورہ گجرات، شہر میں جاری ترقیاتی سکیموں پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ صوبائی وزیر نے نو تعمیر شدہ جلال پور جٹاں روڈ کا افتتاح کیا۔ گجرات سے یونیورسٹی آف گجرات تک دو رویہ 6کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر سے شہریوں کو سہولت ملی ہے۔ صوبائی وزیر نے سب سے پہلے پنجاب واسا گجرات کے آفس کا دورہ کیا۔ شکایات سیل میں شکایات کے آن لائن ازالے کے جدید نظام کا جائزہ لیا۔ ایم ڈی واسا گجرات نے ترقیاتی سکیموں پر پیش رفت بارے بریفننگ دی۔ صوبائی وزیر نے سروس موڑ بریج اور رحمان شہید روڈ پر کام کی رفتار کا جائزہ لیا۔ ظہور الٰہی شہید اسٹیڈیم میں ڈسپوزل اسٹیشن کی تعمیر کا جائزہ لیا۔ صوبائی وزیر کا واسا کے کام پر اظہار اطمینان، واسا شہر سے 15سے 20سال کا گند نکال رہا ہے، صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی منظوری کے بعد گجرات شہر میں 18 ارب روپے کی لاگت سے عالمی معیار کے سیوریج سسٹم کے منصوبے پر کام جاری ہے۔ مفاد عامہ کا یہ بڑا منصوبہ 2 سال میں مکمل ہوگا۔ گجرات شہر میں اربوں روپے مالیت کی ترقیاتی سکیموں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ آئندہ مون سون سیزن شروع ہونے سے قبل تمام انتظامات مکمل ہونے چاہئیں۔ غفلت اور کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں۔ شہر کو کسی بھی سیلابی صورتحال سے محفوظ رکھنے کیلئے پلان بی بھی تیار رکھیں، تمام ادارے مربوط انداز سے کام کریں۔ مشینری کی دیکھ بھال اور ترقیاتی سکیموں پر کام کی رفتار کی موثر مانیٹرنگ کی جائے۔ سیوریج نالوں کو جان بوجھ کر بند کرنے والے شرارتی عناصر پر کڑی نظر رکھی جائے۔ سروس موڑ بریج تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، چوہدری شافع حسین۔ آئندہ ڈیڑھ ماہ میں سروس موڑ بریج ٹریفک کیلئے کھول دیا جائے گا۔ صوبائی وزیر کی تمام ترقیاتی سکیموں کی بروقت، معیاری اور شفاف تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب حکومت نے گزشتہ دو سالوں میں ریکارڈ ترقیاتی منصوبے مکمل کئے، صوبائی وزیر صنعت و تجارت۔ حکومت کے میگا پراجیکٹس کی تکمیل اور فلاحی پروگراموں سے عوام مستفید ہو رہے ہیں۔ گجرات ڈویڑن میں بھی اربوں روپے کی لاگت بڑے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ چوہدری شجاعت حسین کی قیادت میں گجرات کو ترقی کے لحاظ سے ماڈل شہر بنائیں گے، صوبائی وزیر صنعت و تجارت۔ پاکستان مسلم لیگ کے اراکین پنجاب اسمبلی، مسلم لیگ سٹی گجرات کے صدر، دیگر عہدیداران اور متعلقہ سرکاری افسران بھی صوبائی وزیر کے ہمراہ تھے۔