ہراسانی کیس کی سزا معطل کرنے پر خاتون نے گورنر سندھ کا فیصلہ چلینج کردیا

کراچی:کے الیکٹرک کی سباق ملازمہ مہرین عزیز نے سابق سی ای او کیخلاف ہراسانی کیس میں گورنر سندھ کی جانب سے دیے گئے بریت کے فیصلے کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیادرخواست گزار نے کہا کہ گورنر سندھ نے اہم شواہد نیگیٹو ورک پلیس ہراسمنٹ کے ماحول کو نظر انداز کیا درخواست گزار نے مو¿قف اختیار کیا کہ ہراسانی کے واقعے کی شکایت کے ایک ماہ ملازمت سے برطرف کرنا انتقامی کارروائی ہے کے الیکٹرک کی سابق ملازمہ مہرین عزیز خان کی گورنر سندھ کے فیصلے کیخلاف درخواست دائر کی، جس میں کہا گیا ہے کہ گورنر سندھ نے ہراسانی کی تشریح سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف کی ہے کے الیکٹرک کی سابق ملازمہ نے استدعا کی کہ گورنر سندھ کے 20 جنوری 2026 کے صوبائی محتسب فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے واضح رہے کہ صوبائی محتسب برائے ہراسمنٹ ایٹ ورک پلیس نے سابق سی ای او مونس علوی پر الزام ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹانے اور 25 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔