ماہ رمضان میں مہنگائی اور حکومتی اقدامات کے موضوع پر خصوصی مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں حکومت، تاجر برادری اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا ان سے ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے گڈ گورننس کے ماڈل میں حکومت، سول سوسائٹی اور نجی شعبہ ملتے ہیں تو بہتری آتی ہے، حکومت اکیلے مسائل پر قابو نہیں پاسکتی محکمہ خوراک صرف آئل اور چینی کو ڈیل کرتا تھاماہ رمضان میں 16 اشیائے ضرورت جن میں آٹا، گھی، چینی، چاول، چنا، بیسن، کھجور، پھل، سبزیاں شامل ہیں، پر کام ہو رہا ہے ان کی قیمت اور دستیابی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، اس وقت ان اشیاءکی قیمتیں کنٹرول میں ہیں۔ سٹرابیری اور خربوزے کی فصل نئی ہے، انار قندھار سے آتا ہے، افغانستان کی صورتحال کی وجہ سے اس کی کمی ہے لہٰذا اس طرح کے پھل مہنگے ہیں ، چند دنوں میں مارکیٹ میں سپلائی ہوگی تو قیمتیں کم ہو جائیں گی ، اب فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ بنا دیا گیا جو خوراک سے متعلق تمام معاملات کو دیکھتا ہے۔ پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں کنزیومر پروٹیکشن پر کام ہو رہا ہے کسی دوسرے صوبے میں یہ شعبہ موجود نہیں ہے 2024 میں پرائس کنٹرول اینڈ اسینشل کموڈٹیز کا ایکٹ منظور ہوا، 2025ءمیں اس میں ترمیم کی گئی اور پرائس کنٹرول کونسل کی تشکیل ہوئی جس میں حکومت کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کی نمائندگی بھی موجود ہے اس کا ایک اجلاس جنوری میں ہوا، اگلا اجلاس دو ماہ مکمل ہونے پر ہو گا39 اشیائے ضروریہ میں خوراک کے ساتھ ساتھ اینٹ، چارہ اور فرٹیلائزرز بھی شامل ہیں۔