بیرونی قرضے اتارنے کیلئے گزشتہ سال خطیر ادائیگیاں کی گئیں: وزارت خزانہ

وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے بیرونی قرض اور واجبات 138 ارب ڈالر ہیں جبکہ مالی سال 2022 میں سود کی ادائیگی 1.99 ارب ڈالر جبکہ 2025 میں 3.59 ارب ڈالر ہے پاکستان کا بیرونی قرض زیادہ تر رعایتی اور طویل مدتی ہے، مجموعی بیرونی قرض اور واجبات 138 ارب ڈالر ہیں، جس میں بیرونی حکومتی قرض کا حجم تقریباً 92 ارب ڈالر اور بیرونی عوامی قرض کا 75 فیصد حصہ کثیرالجہتی اور دوطرفہ رعایتی ذرائع سے حاصل کیا گیاوزارت خزانہ نے بتایا کہ ایشین ڈیولپمنٹ بینک کو 1.54 ارب ڈالر، عالمی بینک کو 1.25 ارب ڈالر، نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کے تحت 1.56 ارب ڈالر اور 94 ملین ڈالر سود کی مد میں ادائیگی کی گئی ہے، بیرونی کمرشل قرضوں کی مد میں تقریباً 3 ارب ڈالر ادائیگی، 327 ملین ڈالر سود شامل ہے سود میں اضافہ صرف قرضوں کے حجم میں اضافے کی وجہ سے نہیں ہے، 2022-23 میں زرمبادلہ ذخائر ایک ماہ کی درآمدات سے کم ہو گئے تھے تاہم آئی ایم ایف ای ایف ایف پروگرام اور کثیرالجہتی فنڈنگ سے ذخائر کی بحالی ممکن ہوئی عالمی شرح سود میں اضافے سے بیرونی ادائیگیوں پر دبا¶ بڑھا، امریکی فیڈرل ریزرو نے شرح سود 5.25 تا 5.50 فیصد تک بڑھائی تھی تاہم حکومت ذمہ دارانہ قرض انتظام اور معاشی استحکام کے لیے پرعزم ہے اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان بیرونی قرضوں پر اوسطاً تقریباً 4 فیصد سود ادا کر رہا ہے اور اس حوالے سے 8 فیصد کا دعویٰ گمراہ کن ہے، مالی سال 2022 میں سود کی ادائیگی 1.99 ارب ڈالر جبکہ 2025 میں 3.59 ارب ڈالر ہے سود کی ادائیگیوں میں 84 فیصد اضافے کی رپورٹ درست نہیں ہے جبکہ اصل اضافہ 80.4 فیصد ہے، جس میں آئی ایم ایف کو 1.50 ارب ڈالر ادائیگی سمیت 580 ملین ڈالر سود شامل ہے