ایمان مزاری کو ٹویٹ پر17سال مگر ملک توڑنے والے آزاد ہیں: اختر مینگل

بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے میرے پاس کوئی تجویز نہیں ہے میں سپریم کورٹ گیاپارلیمنٹ میں تقریریں کیں، اس طرح کے سیمیناروں میں تجاویز دیں مگر اس کے بدلے ہمیں غدار کہا گیا، میرے پاس اس کا کوئی حل نہیں ہے ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل نے لاہورمیں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ان کا کہنا تھا کہ جن کو آپ دہشت گرد کہتے ہیں 31 جنوری کو لوگوں نے ان کو گلے مل کر سیلفیاں بنائیں، اس پر اہل پنجاب کو بھی سوچنا ہوگا، کسی وزیر کے ساتھ بلوچستان کے لوگ سیلفیاں نہیں لیں گے مگر ان کے ساتھ لیتے ہیں بلوچستان کے لوگوں نے ان کو ویلکم کرتے ہیں اور اپنا مسائل کا حل سمجھتے ہیں، کیوں آپ نے نفرت کی دیواریں کھڑی کردیں یہ نفرت کی دیوار کبھی نہیں ٹوٹی بلوچستان اب پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ چکا ہے، اس کی ذمہ دار یہ ریاست ہے بلوچستان کے حوالے سے میں سپریم کورٹ گیا، پارلمنٹ میں تقریریں کیں اور سیمیناروں میں تجاویز دیں، جس کے بدلے ہمیں غدار کہا گیا جبکہ ملک توڑنے والوں کو کوئی سزا نہیں دی گئی ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی کی طرح ایک ٹویٹ پر 17 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے مگر ملک کو توڑنے والوں کو کوئی سزا نہیں دی گئی بلوچستان اب پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ چکا ہے، اس کی ذمہ دار یہ ریاست ہے، 1973 میں جو نعرہ لگایا تھا ادھر ہم ادھر تم اب یہ نعرے بھی آپ لگاو¿ گے