اسلام آباد:سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی کے ہرجانہ کیس میں حقِ دفاع ختم کرنے کے خلاف دائر نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی سماعت جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی۔، جس میں بانی پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے مو¿قف اختیار کیا کہ قانون کے مطابق حق دفاع ختم کرنے کے لیے مدعی کی جانب سے درخواست دائر کرنا ضروری ہوتا ہے، تاہم موجودہ کیس میں شہباز شریف کی جانب سے ایسی کوئی درخواست دائر نہیں کی گئی دوران سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی نے اپنا ابتدائی جواب 4 سال بعد جمع کرایا تھا۔ اس پر بیرسٹر علی ظفر نے بتایا کہ 4 سال تک عدالت کے دائرہ اختیار پر سماعت ہوتی رہی جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ کیا جواب جمع کرانے میں تاخیر پر عدالت نے کوئی کارروائی کی یا جرمانہ عائد کیا، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ عدالت کو جواب جمع نہ کرانے پر کارروائی کا اختیار تھا مگر اسے استعمال نہیں کیا گیا جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ 4 سال تک جواب جمع نہ کرانے پر کچھ نہیں ہوا اور 2 ماہ میں حق دفاع ختم کر دیا گیاانہوں نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے حق دفاع ختم کیا حالانکہ ٹرائل کورٹ کو اس طرح ازخود نوٹس لینے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں تھا۔ وکیل کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا حق دفاع ایک ماہ کے اندر مختصر تاریخیں دے کر ختم کیا گیاسماعت کے دوران جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیس کی آئندہ سماعت ایک ماہ بعد رکھیں گے بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 7 اپریل تک ملتوی کر دی۔