شہباز شریف نے امن مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہونے کا عندیہ ظاہر کر دیا

وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر اینے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ خلوص نیت کے ساتھ امن کوششوں کا حصہ بنا رہے گا اور امید ظاہر کی کہ مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی جلد کی جائے گی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں امن کوششوں کے سلسلے میں کی جانے والی غیرمعمولی سفارتی سرگرمیوں نے عالمی توجہ حاصل کرلی انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر، متحدہ عرب امارات، اردن اور پاکستان کی قیادت کے ساتھ اہم ٹیلیفونک رابطہ کیا گیا ہے۔وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے امریکی صدر کی جانب سے مسلم ممالک کی قیادت سے رابطے کو غیر معمولی قرار دیا اور کہا کہ اس رابطے کا مقصد خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال اور جاری امن کوششوں کو عملی شکل دینا تھا تاکہ مستقل استحکام کی راہ ہموار کی جاسکے۔ گفتگو کو نہایت مفید اور نتیجہ خیز قرار دیا گیا۔شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی انہون نے فیلڈ مارشل کے کردار کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا گیا کہ انہوں نے پورے سفارتی عمل کے دوران مسلسل اور بھرپور کوششیں کیں۔ بیان میں ان کی کاوشوں کو خطے میں امن کے لیے اہم قرار دیا گیا۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ مذاکراتی عمل کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جاسکے اور خطے کو ایک نئے بحران سے بچایا جاسکے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ خلوص نیت کے ساتھ امن کوششوں کا حصہ بنا رہے گا اور امید ظاہر کی گئی ہے کہ مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی جلد کی جائے گی۔یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق عالمی سطح پر قیاس آرائیاں تیز ہوچکی ہیں۔