اسلام آباد:وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ ایل این جی کی عالمی سپلائی میں رکاوٹ سے پاکستان زیادہ متاثر نہیں ہوگا برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر توانائی نے کہا کہ پاکستان میں مقامی ذرائع سے بجلی کی پیداوار میں اضافے کے باعث ایل این جی کی عالمی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے اثرات اب پہلے کے مقابلے میں کم ہو گئے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں تقریباً 74 فیصد بجلی مقامی ذرائع سے پیدا کی جا رہی ہے اور حکومت کا ہدف ہے کہ 2034 تک اس شرح کو 96 فیصد سے بھی زیادہ تک پہنچایا جائے وفاقی وزیر توانائی کے مطابق اس وقت پاکستان میں بجلی کی پیداوار کا تقریباً 10 فیصد حصہ ایل این جی پر مشتمل ہے، جو زیادہ تر شام کے اوقات میں بجلی کی طلب پوری کرنے اور گرڈ کو مستحکم رکھنے کے لیے استعمال ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ اگر بدترین صورتحال میں کئی ماہ تک ایل این جی کی فراہمی معطل بھی ہو جائے تو پاکستان میں گرمیوں کے دوران شام کے اوقات میں صرف ایک سے دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو سکتی ہے تاہم اس کا زیادہ اثر صنعت اور زراعت پر نہیں پڑے گاان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سولر توانائی کے تیزی سے فروغ، جوہری توانائی، پن بجلی اور مقامی کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں نے ملک کو توانائی کے معاملے میں زیادہ خود کفیل بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے