ایرانی قیادت امریکہ کے نشانے پر ‘معاہدے کیلئے پندرہ روز کا الٹی میٹم

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث جنگ کے خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے امریکا کا طیارہ بردار بحری بیڑا بحیرہ روم میں داخل ہوگیا ہے جس پر درجنوں لڑاکا طیارے موجود ہیں ممکنہ حملے کی صورت میں امریکا ایرانی قیادت کو براہ راست نشانہ بنا سکتا ہے اور ایرانی حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے تاہم اس حوالے سے امریکی حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی دوسری جانب ایران نے بھی سخت موقف اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ عالمی طاقتیں ایران کو دبا¶ میں لا کر جھکانے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن ایران کسی بھی دبا¶ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا یاد رہے کہ پرتگال میں امریکی فضائی اڈوں پر بھی لڑاکا طیاروں نے پوزیشن سنبھال لی ہے اردن کے ایک ایئربیس پر کم از کم 60 لڑاکا طیارے موجود ہیںصدر ٹرمپ نے ایران کو ممکنہ معاہدے کے لیے 10 سے 15 روز کا الٹی میٹم دیا تھا، جس کے بعد خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے