نامور یونیورسٹیوں کو لاکھوں طالبعلموں کی طرف سے قانونی کاروائی کا سامنا

لندن: نامور 36 یونیورسٹیوں کو 1لاکھ 70ہزار سے زائد طالبعلموں کی طرف سے قانونی کاروائی کا سامنا ہے جنہوں نے دعوی کیا ہے کہ عالمی وبا ء کورونا وائرس کے دوران بھاری ادائیگیوں کے باوجود انہیں مطلوبہ تعلیمی میسر نہیں آئی‘ یونیورسٹی کالج لندن اور سٹوڈنٹ گروپ کلیم کے درمیان ایک تصفیہ کے بعد مذکورہ امر سامنے آیا ہے اب دوسرے طلباء اور گریجویٹس کی بھی وہ نمائندگی کر رہا ہے‘ برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق تعلیمی اداروں کو طالبعلموں کی طرف سے قانونی خطوط بجھوائے گئے ہیں‘ حکومت اس وقت کہا تھا کہ یونیورسٹیاں اپنی فیسیں خود مقرر کرنے کی ذمہ دار ہیں اور اس سے توقع ہے کہ وہ اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کرنا جاری رکھیں گے سٹوڈنٹ گروپ کلیم قانونی فرموں کا ایک اتحاد ہے جس میں گروپ قانونی چارہ جوئی کا تجربہ ہے دوسری طرف یو سی ایل نے اپنے معاملے میں کوئی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے یو سی ایل کے خلاف کیس میں 6 ہزارطلباء شامل تھے اور اس کی سماعت مارچ میں عدالت میں ہونا تھی تاہم اب ایسا لگتا ہے کہ اس معاہدے نے یونیورسٹی کے شعبے کے خلاف بڑے پیمانے پر قانونی کارروائی کی راہ ہموار کر دی ہے، جسے صارف قانون کے تحت لایا جا رہا ہے وبائی مرض کے دوران یونیورسٹی کی زیادہ تر تدریس آن لا ئن پر منتقل ہوگئی‘ طالبعلموں کی بڑی تعداد کو یا تو گھر اور یا پھر یونیورسٹیوں کی رہائشگاہوں میں منتقل کردیاگیاتھا۔