ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خوف اور بے یقینی کی رات گزاری۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد یہ دارالحکومت پر ہونے والی شدید ترین بمباری میں سے ایک تھی تہران کے مغربی علاقے میں رہنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ ابتدا میں تقریباً پندرہ منٹ تک مسلسل ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے درجنوں لڑاکا طیارے ان کے سروں کے اوپر پرواز کر رہے ہوں، پھر کچھ وقفے کے بعد دوبارہ حملے شروع ہو جاتے تھے شہریوں کے مطابق دھماکوں کی شدت سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں جس کے باعث بہت سے لوگ اپنے گھروں کے محفوظ حصوں یا باتھ رومز میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے رپورٹس کے مطابق رات کے وقت جنگی طیاروں نے کم بلندی پر پرواز کرتے ہوئے شہر کے مختلف علاقوں پر درجنوں بھاری بم گرائے جس سے کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے اور شہری خوفزدہ ہو گئے دوسری جانب ایرانی حکومت نے جنگ کے دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ کی سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جس کے باعث شہریوں کو معلومات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔