پاکستان کی آبادی 25 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ہو چکی ہے جبکہ صحت پر سرکاری اخراجات جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم ہیں عالمی ادارہ صحت کے تجویز کردہ معیار کے برعکس پاکستان میں 2500 مریضوں پر صرف ایک نرس موجود ہے ان خیالات کا اظہار مقررین نے پی ایم اے ہاو¿س میں پریس بریفنگ کے دوران کیاپاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے رہنماو¿ں نے کہا کہ یہ بریفنگ معمول کی پالیسی بحث کے لیے نہیں بلکہ قومی طبی ایمرجنسی کے اعلان کے لیے بلائی گئی ہے اور عوامی صحت کا نظام مفلوج ہوتا جا رہا ہے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ملک کی موجودہ صحت کی صورتحال کو قومی طبی ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ نظام صحت تیزی سے تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے مقررین نے کہا کہ سال 2025 میں تین ہزار سے زائد اسپیشلسٹ ڈاکٹر ملک چھوڑ چکے ہیں دیہی علاقوں میں 45 فیصد بنیادی مراکز صحت غیر فعال ہیں جبکہ شہروں میں ڈاکٹروں کو ایمرجنسی وارڈز میں تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے داخل ہونے والے 40 فیصد مریض آلودہ پانی کے باعث بیمار ہوتے ہیں