امریکا میں موٹاپے کے علاج کے لیے 12 سال سے کم عمر بچوں میں جی ایل پی-1 ادویات کے استعمال میں گزشتہ سات برس کے دوران غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ایک نئی بڑی تحقیق کے مطابق 2019 کے بعد سے 8 سے 11 سال عمر کے 20 ہزار سے زائد بچوں نے یہ ادویات استعمال کیں۔تحقیق میں تقریباً 30 کروڑ الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈز کا تجزیہ کیا گیا جس سے بچوں میں وزن کم کرنے والی ان ادویات کے استعمال میں نمایاں اضافے کا انکشاف ہوا۔رپورٹ کے مطابق امریکا میں 2 سے 17 سال عمر کے تقریباً ہر پانچ میں سے ایک بچے کو موٹاپے کا سامنا ہے، جس کے باعث مستقبل میں دل کی بیماریوں اور بعض اقسام کے کینسر سمیت دیگر صحت کے مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق امریکا میں موٹاپے اور زائد وزن کا مسئلہ آنے والے برسوں میں مزید سنگین ہوسکتا ہے اور 2050 تک تقریباً 26 کروڑ امریکیوں کے موٹاپے یا زائد وزن کا شکار ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔تاہم، ڈاکٹروں کے مطابق وزن کم کرنے والی ادویات کے مناسب اور محتاط استعمال سے ان اعداد و شمار میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔نیو یارک یونیورسٹی گروسمین اسکول آف میڈیسن کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور موٹاپے کے ماہر ڈاکٹر بابک اوراندی نے کہا کہ نوجوان امریکیوں میں موٹاپے کی وباء سے نمٹنے کے لیے جی ایل پی-1 ادویات کا محتاط استعمال ایک اہم ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔البتہ، ماہرین کم عمر بچوں میں ایسی ادویات کے استعمال کی نگرانی اور طبی ماہرین کی رہنمائی کو اہم قرار دیتے ہیں۔