زندگی غم اور خوشیوں کا ایک سنگم ہے، اس مین سکھ دکھ بوند بوند کر کے آملتے ہیں، پھر یہ ہوتا ہے کہ زندگی کی تیز دھوپ ڈھلنے لگتی ہے تو ڈھلتی عمر کے اس میدان میں آکر یہی تیز رو چشمہ ٹھہرے ہوئے پر سکون سمندر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اب رہ جاتی ہیں صرف یادیں، ایسے میں یہ یادیں قیمتی لمحوں، انمٹ، دلچسپ اور خوشگوار واقعات پر مشتمل ہوتی ہیں سامنے آکھڑی ہوتی ہیں۔میں نے اپنی دلچسپ اور خوشگوار واقعات کو اظہار کی زبان دینے کی کوشش کی ہے اوریہ کہ ان واقعات کی عقل اور نقل دونوں اعتبار سے تائید ہوتی ہے۔ کسی نے پوچھا تھا کہ فنکار کیلئے سب سے زیادہ صبر آزما لمحہ کونسا ہوتا ہے؟اسے جواب ملا کہ جب کسی فنکار کو فن کی پرکھ سے کورے شخص سے واسطہ پڑ جائے،فیض صاحب کی ہونہار بیٹی سلیمہ ہاشمی نے بہت محنت کر کے ایک مرتے ہوئے شخص کی تصویر بنائی۔ آخری لمحوں کا سارا دکھ سازی’حسرت ساری ا’ذیت تصویر سے جھلکتی تھی۔ سلیمہ نے اس تصویر کے بارے میں اپنی ایک ڈاکٹردوست سے رائے طلب کی تو ڈاکٹر دوست نے کہا۔ مجھے تو یہ ٹائیفیڈ کا کیس لگتا ہے۔
زاہد ڈار ایک خوبصورت شاعر تھا۔ ایک بار وہ یوسف کامران (مرحوم) سے ملنے اس کے گھر گیا، دروازے پر دستک دی تو دروازہ یوسف کی بیوی کشور ناہید نے کھولا اور زاہد ڈار کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ یوسف چھ سات دن کیلئے دورے پر گیا ہوا ہے۔ زاہد بولا: کوئی بات نہیں، میں تمہارے ڈرائنگ روم میں اس کا انتظار کر لوں گا۔اپنے پر ستاروں سے آدمی دو ہی صورتوں میں بے زار ہوتا ہے، جب اسے یا توخود اپنی صلاحیتوں کا ٹھیک ٹھیک علم ہو جائے یا پرستاروں کی صلاحیتوں کا۔ اداکار محمد علی کو ایک بار ایک پرستار کا خط موصول ہوا جو کہ کوئی پڑھا لکھا آدمی تھا۔ اسے بہت خوشی ہوئی کہ خط میں اسے پاکستان ہی کا نہیں بلکہ دنیا کا عظیم ترین اداکارقرار دیا گیا تھا،اور اسکی شخصیت اور فن کی تعریف میں زمین آسمان ایک کر دئیے گئے تھے، بے زاری اسے آخری دو جملے پڑھ کر ہوئی۔ جس میں لکھا تھام یہ خط کوئلے سے لکھنے کیلئے معذرت چاہتا ہوں۔ کیونکہ ہم لوگوں کو یہاں پاگل خانے میں کوئی بھی نوکیلی چیز رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔
آزاد کوثریم میرا بہت پیارا دوست تھا، بہت اچھا آدمی بھی۔ اچھے آدمی ہونے سے اسے گھاٹا بھی ہوا لیکن قربانیوں میں وہ ہم سب جوشوں کیلئے ایک مثال ہے۔ صحافت میں آنے سے پہلے وہ لاہور کی ایک انشورنس کمپنی مین ملاز م تھا، ایک روز اس کے افسر نے کہا، کوثری ذرااپنی حالت دیکھ، قمیض کی آستین پھٹی ہوئی، کوٹ کے سارے بٹن غائب، کپڑے استری کیے ہوئے، میلے، ملگجے، کالر پر چائے کے داغ، کہا ہماری کمپنی کے نمائندے کے طور پر ایسا حلیہ مناسب ہے، آزادکوثری نے شرمندگی کے ساتھ جواب دیا، نہیں جناب، افسر بولا تو تمہیں اس سلسلے میں پہلا ہی قدم اٹھانا ہوگا، یا تو شادی کر لو۔، فلم اداکار اور ڈرامہ آئیٹ و ہدائتکار مسعود اختر مرحوم میرے ان پر انے دوستوں میں سے ہے جن پر میں آج بھی فخر کر سکتا ہوں، بہت سال ادھر کی بات ہے پاکستان آرٹس کونسل لاہور میں مسعود اختر، بحیثیت پروڈیو سر ’ڈائریکٹر ایک ڈرامے کی ریہرسل کرا رہا تھا۔ کئی گھنٹوں سے وہ اسٹیج پر شفق پیدا کرنے کی کوششوں میں سر کھپا رہا تھا، دیر تک وہ بجلی کے مستریوں کو مختلف رنگوں کی روشنیاں تیزاور ہلکی کرنے کو کہتا رہا، آخر ایک مرحلے پر شفق کا رنگ اسٹیج پر پھیل گیا اور وہ چیخا، بس بس روشنیوں کو ایسا ہی رکھو، شیف لائٹ مین نے چلا کر کہا، مسعود صاحب، یہ ہمارے بس میں نہیں ہے بجلی کے تاروں سے تھیٹر میں آگ لگ گئی ہے۔
ایک اور واقعہ اسٹیج ہی کا یاد آیا۔ ایک اداکارہ تھیں (اپنی سہولت کیلئے اس کا نام نائلہ فرض کر لیتے ہیں)۔نائلہ نے ایک دوسری اداکارہ سے کہا، میں اپنے نئے ڈرامے میں کچھ دیر کیلئے جب لڑکا بنتی ہوں تو میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ آدھے تماشائی مجھے سچ مچ لڑکا ہی سمجھتے ہونگے،دوسری اداکارہ بولی، اور باقی آدھے تماشائی اپنے تجربے کی بنا پر قسم کھا کر کہہ سکتے ہوں گے کہ تم لڑکی ہی ہو،حسن پرستی اور ہوس پرستی میں بال برابر فرق ہے۔ لیکن میرے دوست شاعر ڈرامہ نویس اور دانشور سرمد صہائی کی خوبی یہ ہے کہ وہ اس بال برابر کو سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں دیتا، مندرجہ ذیل واقعہ کا راوی خود سرمد ہے۔ ایک دن اداسی کے عالم میں ایک پارک میں تنہا بیٹھا تھا، یکایک ایک خوبصورت پری میرے سامنے نمودار ہوئی اور مجھے بڑی ادا سے کہنے لگی، میں تمہاری تین خواہشیں پوری کر سکتی ہوں، دوسری اور تیسری خواہش بتاؤ،
یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں
وفاداری کا وعدہ کیو ں کریں ہم