دس ارب روپے ہرجانہ کیس، بانی پی ٹی آئی کی نظرثانی درخواست پرسماعت

اسلام آباد:دس ارب روپے ہرجانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کا حق دفاع ختم کرنے کے معاملے پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے ہیں کہ عدالت نے کئی مرتبہ بانی پی ٹی آئی کو جواب کیلئے وقت دیا تھا، چار سال بعد تو دعوے کا جواب جمع کروایا گیا تھاجسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ آج درخواست گزار کو سن لیتے ہیں، آئندہ سماعت پر دوسرے فریق کو سن لیں گے، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا عدالت نے کئی مرتبہ بانی پی ٹی آئی کو جواب کیلئے وقت دیا تھا، چار سال بعد تو دعوے کا جواب جمع کروایا گیا تھا، کیا اتنی تاخیر کے بعد بھی عدالت سخت حکم جاری نہ کرتی؟۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا نظر ثانی کے دائرہ اختیار کو بھی ذہن میں رکھ کر دلائل دیںجسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے بانی پی ٹی آئی کی نظرثانی درخواستوں پر سماعت کی، وزیراعظم شہباز شریف کے وکیل راشد حفیظ کے معاون عدالت نے عدالت کو بتایا راشد حفیظ لندن میں ہیں، ان کی استدعا ہے کہ کیس آئندہ ہفتے تک ملتوی کیا جائے علی ظفر نے دلائل میں کہا کہ یہ کوئی سزائے موت کا مقدمہ نہیں جو حق دفاع بحال ہونے سے مسئلہ ہوگا، سکیورٹی خدشات پر وکلاءکی بانی پی ٹی آئی سے اسپتال میں ملاقاتیں روکی گئیں، ممکن نہیں تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال سے بیان حلفی کیلئے باہر لایا جاتا، حق دفاع کی بحالی شفاف ٹرائل کا بنیادی تقاضا ہے سول کورٹ نے آٹھ نومبر تک بانی پی ٹی آئی کو بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیا، تین نومبر 2022 کو بانی پی ٹی آئی پر قاتلانہ حملہ ہوا، عدالت نے 8 اور 17 نومبر کی سماعتوں میں بانی پی ٹی آئی کا زخمی ہونا تسلیم کیا، بائیس نومبر 2022 کو عدالت نے حق دفاع ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا۔