سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ایف بی آر ترمیمی بل بحث کے بعد منظور کرلیاچیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا، جس میں سینیٹر رانا ثنااللہ کی طرف سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو ترمیمی بل پر غور کیا گیااجلاس میں چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے مصطفی امپکس کیس میں وزیراعظم سے اختیار وفاقی کابینہ کو دیا گیا اسکے تحت ایف بی آر ایکٹ میں ترمیم کی ضرورت ہے ٹیکس پالیسی بورڈ بھی وزارت خزانہ کو منتقل کر دیا گیا ایف بی آر کے افسران کے اثاثے ان کی تنخواہ کے مطابق نہیں ہیںٹیکس وصولی میں کمی ہو رہی ہے لوگ 10 لاکھ روپے ٹیکس دینے کی بجائے 20 لاکھ دے کر ایف بی آر سے جان چھڑاتے ہیں۔ ملک میں ٹیکس نظام کو ٹیکس دہندہ دوست بنانا چاہیے میں اس مجوزہ ترمیمی بل کی مخالفت کروں گاوزیر خزانہ نے اجلاس کو بتایا کہ ٹیکس پالیسی بورڈ کو ایف بی آر سے نکال کر وزارت خزانہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ سارے افسران اس سال سے اپنے اثاثے ڈکلیئر کریں گے۔ اگر کسی سینیٹر کے پاس کسی ٹیکس حکام کیخلاف شکایات ہیں تو سامنے لائیں کارروائی کی جائے گی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ترمیم سے سارا اختیار چیئرمین ایف بی آر کو دیا جا رہا ہے۔ موجودہ چیئرمین ایف بی آر کا ٹیکس شعبے میں کوئی تجربہ نہیں ہے۔ ایف بی آر ایک ٹیکنیکل محکمہ ہے، اسکے محکمہ کا ہی فرد چیئرمین مقرر ہونا چاہیے۔ اس ترمیم سے موجودہ چیئرمین کو لامحدود اختیارات مل جائیں گے۔ چیئرمین ایف بی آر جس کو چاہے گا ممبر مقرر کر دے گا اور جس کو چاہے گا تبدیل کر دیا جائے گا۔