وزیراعظم کا اردن اور بحرین کے فرماں روا سے رابطہ، خطے میں کشیدگی پر تشویش

وزیراعظم شہباز شریف نے اردن کے فرماں رواں شاہ عبداللہ اور بحرین کے فرماں روا حمد بن عیسیٰ الخلیفہ سے ٹیلیفونک رابطے کئے اور ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے بعد خطے میں جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا بیان میں بتایا گیا کہ دونوں رہنماو¿ں نے حالیہ علاقائی کشیدگی پر تفصیلی بات چیت کی جو ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد مزید شدت اختیار کر گئی ہے اور اس کے نتیجے میں اردن اور دیگر علاقائی ممالک کو بھی نشانہ بنایا گیاوزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اردن کے فرماں روا عبداللہ دوم ابن الحسین سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیاوزیراعظم نے اس مشکل گھڑی میں مملکت اردن سمیت خطے کے دیگر برادر ممالک کے ساتھ پاکستان کی جانب سے مکمل یک جہتی کا اعادہ کیا اور خطے میں امن کی بحالی اور استحکام کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون کی پیش کش کی دونوں رہنماو¿ں نے علاقائی پیش رفت پر قریبی رابطہ اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا وزیراعظم نے صورت حال پر پاکستان کی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کے تحفظ کے لیے فوری طور پر تحمل، کشیدگی میں کمی اور بامقصد مکالمے کی ضرورت ہے وزیراعظم نے کہا کہ اس طرح کی بلا اشتعال جارحیت سے صورت حال مزید خراب ہوتی ہے اور پورے خطے کے امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہوتا ہے شہباز شریف نے بحرین کی قیادت کو یقین دلایا کہ پاکستان بحرین اور دیگر برادر خلیجی ممالک کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے اور اس مشکل وقت میں تحمل سے کام لینے کی ضرورت پر زور دیابعد ازاں وزیراعظم شہبازشریف نے بحرین کے فرماں روا حمد بن عیسیٰ الخلیفہ سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں اسرائیل اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور ایران کی جانب سے کئی خلیجی ممالک بشمول مملکت بحرین پر جوابی حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں جاری بحران پر تبادلہ خیال کیا۔