سپریم کورٹ آف پاکستان نے ٹیپو ٹرکاں والا قتل کیس میں مرکزی مجرم خرم اعجاز کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اس پر عائد دہشت گردی کی تمام دفعات ختم کر دیںعدالت عظمیٰ نے شریک ملزم سید احسن شاہ کی بریت کے خلاف اپیل بھی مسترد کر دی جسٹس اشتیاق ابراہیم نے 9 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ ٹیپو ٹرکاں والا قتل کیس دہشت گردی نہیں بلکہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ ہے اور محض عوامی مقام پر قتل ہونا دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا سپریم کورٹ کے مطابق استغاثہ مقتول کے قتل کا ٹھوس محرک ثابت کرنے میں ناکام رہا، جبکہ قانون کے تحت وجہ ثابت نہ ہو تو سزائے موت نہیں دی جا سکتی فیصلے کے مطابق 20 جنوری 2010 کی شام علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی پارکنگ میں دبئی سے واپسی پر عارف امیر عرف ٹیپو ٹرکاں والا کو گاڑی میں سوار ہوتے وقت نشانہ بنایا گیا فیصلے میں کہا گیا کہ احسن شاہ کا نام ایف آئی آر میں شامل نہیں تھا، اس لیے شک کا فائدہ دے کر بریت کا فیصلہ درست ہے مرکزی ملزم خرم اعجاز کو موقع پر موجود ساتھیوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا۔ ملزم کے مطابق مقتول اس کے بھائی کے قاتلوں کی پشت پناہی کر رہا تھامئی 2011 میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے خرم اعجاز کو دو بار سزائے موت سنائی تھی، جبکہ اکتوبر 2019 میں لاہور ہائی کورٹ نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل اور احسن شاہ کو بری کر دیا تھا۔