راولپنڈی میں گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری میں غریب صحت مند مزدوروں کے زبردستی گردے نکال کر بیرون ممالک سے آئے امیر مریضوں کو ٹرانسپلانٹ کرنے کے کیس میں انتہائی اہم پیش رفت ہوئی ہے اور دو ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے، مغوی کے بیان پر گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کرنے کے بھی شواہد موصول ہوگئے پولیس ذرائع نے بتایا کہ بازیاب ارسلان کا عدالت میں دفعہ 164 کا بیان قلمبند کروا لیا ہے، مغوی نے تمام واقع کی تصدیق کردی، انسانی گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری میں ملوث نرس فردوس شمیم اور سہیل خالد کو گرفتار کرلیا ہے، دونوں ملزمان سے ابتدائی تفتیش مکمل کرلی ہے، جس کے بعد نرس فردوس شمیم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے جبکہ ملزم سہیل کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا ہے پولیس نے پہلے سے درج ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 109 سمیت پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ ایکٹ کی مزید تین دفعات بھی شامل کرکے مقدمہ کی تفتیش کو وسیع کردیا ہے مقدمہ میں نامزد حاجی شہزاد، ڈاکٹر فاروق، نواب خان، علی خان کی گرفتاری کے لیے پولیس ٹیمیں چھاپے مار رہی ہیں، مقدمہ میں 5 نامعلوم ملزمان بھی نامزد ہیں جن کو ٹریس کہا جارہا ہے۔