سیکیورٹی واپس لینے پر سابق وزیراعلیٰ گنڈاپور خیبرپختونخوا حکومت پر برہم ہو گئے

خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی امین گنڈاپور نے صوبائی حکومت کی جانب سے سیکیورٹی واپس لیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے اپنی پارٹی کی حکومت پر برہمی کا اظہار کیا جبکہ صوبائی حکومت نے اس خبر کی تردید کی ہے علی امین گنڈا پور نے سی ایس او سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ ہاو¿س میں اگر گاڑیاں کم ہیں تو میں اپنے گاڑیاں بھیج دوں گا، مجھے اگر دوبارہ گاڑی یا سیکیورٹی دی گئی تو میں پھر نہیں لوں گا صوبے میں ہماری حکومت ہے لیکن پھر بھی یہ بلا جواز اقدام کیا گیا ہے سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ وزیراعلیٰ کی سیکیورٹی گزشتہ روز چیف سیکیورٹی افسر کے حکم سے واپس لی گئی ہے انہوں نے کہا کہ میرے پاس ایک جیمر، دو ڈبل کیبن اور ڈرائیور سمیت 14 افراد کا اسٹاف تھا، ڈی ائی خان ایک حساس علاقہ ہے اور مجھے پہلے سے تھریٹ الرٹس ہیں، یہ تھرٹ الرٹس بحیثیت سابق وزیراعلیٰ اور حکومت میں دہشت گردی کے حوالے سے مو¿ثر پالیسی کے باعث ملی ہیں ڈی ائی خان خیبرپختونخوا کا دہشت گردی سے متاثرہ علاقہ ہے پھر بھی میری سیکیورٹی واپس لی گئی ہے، وزیراعلیٰ سے وجوہات جاننے سے معلوم ہوا کہ آرڈر اوپر سے آئے ہیں۔