کروڑوں ڈالرز قرض کو دھچکا، میڈیکل کمپلیکس کی زمین متنازع نکلی

حکومت پاکستان کا چینی مارکیٹ میں پہلی بار پانڈا بانڈ کے ذریعے 25 کروڑ ڈالر قرض حاصل کرنیکا منصوبہ انتظامی اورقانونی رکاوٹوں کے باعث تعطل کا شکار ہو گیا ہے ذرائع کے مطابق 2 منصوبوں کیلیے غلط مقامات کے انتخاب نے معاملے کو پیچیدہ بنادیابین الاقوامی مالیاتی اداروں کی پالیسی کے تحت متنازع علاقوں میں فنڈنگ نہیں کی جاسکتی۔ادھر جناح میڈیکل کمپلیکس کیلیے اسلام آبادکے سیکٹر ایچ16 میں مختص زمین پر نجی ملکیت کے دعوے سامنے آئے،جس پر ضامن اداروں نے تحفظات ظاہرکیے وزیراعظم نے جولائی 2024 میں منصوبے کاسنگِ بنیادرکھاتھا، تاہم بعد ازاں زمین کے واجبات کے دعوے سامنے آنے پر حکومت کومقام تبدیل کرناپڑا،منصوبہ اب سیکٹر ایچ11منتقل کر دیاگیا ذرائع کاکہناہے کہ مجموعی 25 کروڑڈالرمیں سے تقریباً 15کروڑ 20 لاکھ ڈالر دومنصوبوں پر خرچ کیے جانے تھے،جن میں 76.5ملین ڈالر انڈس بیسن کے 26 مقامات پرریئل ٹائم ڈسچارج مانیٹرنگ سسٹم کی تنصیب کیلیے مختص تھے،جبکہ 76 ملین ڈالر جناح میڈیکل کمپلیکس کیلیے رکھے گئے تھے جن میں 76کروڑڈالر مالیت کاجناح میڈیکل کمپلیکس بھی شامل ہے پاکستان کمزورکریڈٹ ریٹنگ کے باعث براہِ راست چینی قرض مارکیٹ میں داخل نہیں ہوسکتا،حکومت نے ایشین ڈیولپمنٹ بینک اورایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی کریڈٹ گارنٹی حاصل کی ہے،تاہم ان اداروں نے شرط عائدکی ہے کہ قرض صرف ماحول دوست اورگرین منصوبوں پر خرچ ہوگا۔