مہش کمار میلانی کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس ہوا جس میں ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے وزارت صحت کی پیش کردہ ایڈز سے متاثرہ افراد کی رپورٹ پر اظہار ناراضگی کیاڈاکٹر شازیہ ثوبیہ کا کہنا تھا کہ اجلاس میں ایچ آئی وی ایڈز کی جو رپورٹ پیش کی گئی ہے، یہ رپورٹ اگر عالمی اداروں کو دی جاتی تو ہمارے منہ پر ماری جاتی ملک بھر میں ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں مین اضافہ ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ سینکڑوں ایسے مریض ہیں جن کا اس رپورٹ میں ذکر تک موجود نہیں کے پی میں 2025 میں چالیس ہزار مریض تھے ان کا ذکر تک نہیں کیا گیا یہ رپورٹ اگر باہر جاتی ہے تو ہماری سبکی ہو گی شازیہ نے مزید کہا کہ 2025 میں اسلام آباد میں 300 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جن کا ذکر تک موجود نہیں، بلوچستان کا ذکر تک موجود نہیں، 7 ہزار سے 8 ہزار صرف بلوچستان میں مریض موجود ہیں